مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایران افزودہ یورینیم ہرگز فروخت نہیں کرے گا: وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایران افزودہ یورینیم ہرگز فروخت نہیں کرے گا: وزیر خارجہ عباس عراقچی

تہران (نمائندہ خصوصی)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نہ تو دھمکیوں کے ذریعے زیر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے لالچ یا مراعات کے ذریعے اس کے بنیادی قومی مؤقف سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کسی بھی صورت میں فروخت نہیں کرے گا اور اپنے جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک مؤقف

اپنے ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ سے قبل کچھ عالمی فریقین نے مذاکرات کے دوران ایران کو مختلف پیشکشوں اور مراعات کے ذریعے اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی، تاہم تہران نے اپنے قومی مفادات اور اصولی مؤقف پر کسی قسم کا سودا نہیں کیا۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ جس طرح پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، اسی طرح ایران اپنے خودمختار دفاعی و اقتصادی فیصلوں پر سختی سے قائم ہے۔

جنگ کے بعد ایران کی مضبوط پوزیشن

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے باوجود ایران کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں رتی برابر تبدیلی نہیں آئی، بلکہ ملک پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، متحد اور پراعتماد ہو کر ابھرا ہے۔ ان کے بقول، ایران نے عالمی برادری پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تمام تر دباؤ، ظالمانہ پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کے باوجود اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ جس طرح وزیراعظم شہباز شریف کی قومی ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت ملکی خود انحصاری کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، اسی طرح ایران اپنے جوہری پروگرام کو اپنی خودمختاری کی علامت سمجھتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور عالمی توانائی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ تنازع کے دوران دنیا کو اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے، اور اس خطے میں ایران کا جغرافیائی و تزویراتی کردار ناقابلِ تردید ہے۔ جیسا کہ مون سون کی شدت میں اضافہ، این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ جاری جیسے معاملات قومی سلامتی کے لیے اہم ہیں، ویسے ہی تہران کے لیے آبنائے ہرمز کی سلامتی اس کی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ ہے۔

مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ

عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر سفارت کاری کا حامی رہا ہے، تاہم مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان میں دھمکیوں، دباؤ اور یکطرفہ مطالبات کی بجائے انصاف اور وقار کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں جاری رکھے گا اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں