مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مشرقِ وسطیٰ سے توانائی سپلائی روکنے کی دھمکی

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مشرقِ وسطیٰ سے توانائی سپلائی روکنے کی دھمکی

تہران (نمائندہ خصوصی)۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی عالمی برآمدات کو معطل کرنے کی سنگین دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی تیل و گیس کی فروخت کو زبردستی روکا گیا تو خطے کے دیگر ممالک کے برآمدی راستے بھی بند کر دیے جائیں گے۔ ایرانی سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والے ایک سخت گیر بیان میں پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ علاقائی توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں، اور اگر ایران پر معاشی و عسکری دباؤ کا سلسلہ برقرار رہا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام تجارتی گزرگاہیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور اسٹریٹجک صورتحال

بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی جارحانہ کارروائیاں اور ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم نہیں کرتا، تاہم تہران کی جانب سے فی الحال کسی فوری عسکری اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ فریقین کے درمیان یہ شدید لفظی جنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اس کی بحری ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں پاکستان نے 17 ارب ڈالر کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا ہے، اسی طرح عالمی معاشی استحکام کیلئے خطے میں امن کی اشد ضرورت ہے۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات اور خدشات

دوسری جانب دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے خلیجی توانائی کے برآمدی راستوں کو نشانہ بنایا تو عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں جہاں توانائی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہو سکتا ہے، وہیں خطے میں ایک بڑے کثیر الملکی عسکری تصادم کا خطرہ بھی پیدا ہو جائے گا۔ اس ضمن میں سعودی عرب پر حملوں کی مذمت، وزیراعظم شہباز شریف کا یکجہتی کا اظہار عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت تھی جس نے خطے کے کشیدہ ماحول میں سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مزید برآں، یہ صورتحال اس تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے کہ پائیدار ترقی کیلئے عالمی اصلاحات ناگزیر ہیں، پروفیسر احسن اقبال نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات ہی ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں