نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک حکام سے ملاقات

منیلا (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بینک کے اعلیٰ قیادت کے ساتھ اہم مذاکرات کیے۔ یہ ملاقات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی منیلا میں بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات کے سلسلے کے بعد ایک اور اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد پاکستان کے معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
تعاون کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال
اس موقع پر نائب وزیراعظم نے اے ڈی بی کے نائب صدر (جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا) ینگ منگ یانگ، نائب صدر (سیکٹرز اینڈ تھیمز) فاطمہ یاسمین، اے ڈی بی کے ڈائریکٹر جنرلز، پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نشیطہ محسن اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ فریقین نے پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس دوران بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی استعداد، علاقائی رابطہ سازی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
ایم ایل-1 منصوبہ اور ترقیاتی ترجیحات
نائب وزیراعظم نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے اے ڈی بی کی مستقل حمایت کو سراہا اور باہمی تعاون کو مزید جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایم ایل-1 ریلوے منصوبے کو حکومت کے نمایاں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سے ایک اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحات میں شامل اہم منصوبہ قرار دیا۔ اس حوالے سے حکومتی اہم فیصلوں اور سفارتی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ میں بھی اس منصوبے کی افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
عملدرآمد کو تیز کرنے کی درخواست
سینیٹر اسحاق ڈار نے منصوبے کے لیے کنسورشیم فنانسنگ کی قیادت میں اے ڈی بی کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ منصوبے کی منظوری اور عملدرآمد کے مراحل کو تیز کیا جائے۔ اے ڈی بی کے نائب صدور نے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید بنانے، رابطہ سازی کو فروغ دینے اور پائیدار اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، فلپائن میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر عاصمہ ربانی اور دونوں جانب کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔