اسلام آباد کی غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں قائم غیر قانونی قرار دی گئی ہاؤسنگ اسکیموں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کے لیے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ریگولرائزیشن کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ہاؤسنگ اسکیموں کی قانونی حیثیت کا معاملہ زیر غور آیا۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، عقیل ملک، چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ حکومت شہر کے ترقیاتی امور میں بہتری کے لیے کوشاں ہے، جس طرح حال ہی میں اسلام آباد ایکسائز کا مالی سال میں 25 ارب کا ریکارڈ ریونیو سامنے آیا ہے۔
غیر قانونی اسکیموں کی ریگولرائزیشن کا لائحہ عمل
چیئرمین سی ڈی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ غیر قانونی قرار دی گئی اسکیموں کو ریگولرائز کرنے کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور مطلوبہ کارروائی مکمل ہوتے ہی انہیں قانونی دائرے میں لانے کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا جائے گا۔ کمیٹی ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ راولپنڈی رنگ روڈ ڈیزائن میں تبدیلی: حکومت کی اعلیٰ سطحی انکوائری شروع جیسے پیچیدہ معاملات کی طرح ہاؤسنگ اسکیموں کا معاملہ بھی احتیاط اور قانونی تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔
عوامی سہولیات اور رجسٹری پر پابندی کا خاتمہ
راجہ خرم نواز نے کہا کہ ان آبادیوں اور ہاؤسنگ اسکیموں کو قانونی شکل دینا ہی مسئلے کا پائیدار حل ہے، کیونکہ ہزاروں شہری وہاں رہائش اختیار کر چکے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ اجلاس میں کھنہ کاک، کھنہ ڈاک اور شکریال سمیت بعض علاقوں میں جائیدادوں کی رجسٹری پر عائد پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جس پر ضلعی انتظامیہ نے پابندی ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان اقدامات سے شہر میں غیر ملکی وفود کی آمد: اسلام آباد میں ٹریفک کا خصوصی پلان جیسے انتظامی امور کے ساتھ ساتھ شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی۔