امریکی فوج کا لاک ہیڈ مارٹن سے 58.6 ارب ڈالر کا معاہدہ

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی فوج نے دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی معروف کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو 58.6 ارب ڈالر مالیت کا ایک ریکارڈ ساز دفاعی معاہدہ تفویض کیا ہے۔ یہ معاہدہ PAC-3 MSE پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی تیاری سے متعلق ہے اور اسے لاک ہیڈ مارٹن کی تاریخ کا سب سے بڑا جبکہ امریکی فوج کا اپنی نوعیت کا سب سے اہم معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
میزائل دفاعی صلاحیت میں اضافہ
اس معاہدے کا بنیادی مقصد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی فضائی و میزائل دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنانا اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنا ہے۔ جیسا کہ نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی نیول اور ایئر چیفس سے ملاقات جیسے واقعات سے عیاں ہے کہ دفاعی تیاریوں کو وقت کا اہم تقاضا سمجھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ مالی سال 2026 سے 2032 تک محیط ہوگا جس کے دوران لاک ہیڈ مارٹن امریکی فوج کے لیے ہزاروں جدید ترین PAC-3 MSE انٹرسیپٹر میزائل تیار کرے گی۔
پروگرام کا پس منظر اور عالمی طلب
یہ اقدام اپریل 2026 میں طے پانے والے 4.7 ارب ڈالر کے ابتدائی معاہدے کی ایک توسیعی شکل ہے، جسے اب ایک طویل مدتی کثیر سالہ پروگرام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سمیت دیگر خطوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث پیٹریاٹ میزائل نظام کی عالمی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان اور کویت کے درمیان اہم دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خر مقدم کرتے ہیں، دفتر خارجہ جیسے بین الاقوامی دفاعی تعاون کے معاہدے بھی خطے کی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
پیداواری صلاحیت میں توسیع کا ہدف
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے 2030 تک اپنی پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھایا جائے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری سے موجودہ پیداواری مراکز کو جدید خطوط پر استوار اور توسیع دی جائے گی۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ سالانہ پیداوار کو موجودہ 600 میزائلوں سے بڑھا کر 2,000 میزائل تک لے جائے۔ امریکی محکمہ دفاع بھی دفاعی سازوسامان کی فراہمی میں تیزی لانے پر کاربند ہے تاکہ مستقبل کے ممکنہ تنازعات میں کسی بھی قسم کے دفاعی خلا یا سازوسامان کی قلت سے بچا جا سکے۔ یہ معاہدہ امریکہ کی طویل المدتی دفاعی حکمت عملی کا ایک کلیدی حصہ ہے، جس کے تحت عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی عسکری تیاریوں کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔