مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر کوششیں ناگزیر ہیں

فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر کوششیں ناگزیر ہیں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس پر قابو پانے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ اور مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جو فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پاکستان نیشنل کلین ایئر پالیسی کے عملدرآمدی منصوبے سے متعلق ایک روزہ اعلیٰ سطحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) اسلام آباد اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی تھی۔

صاف ہوا تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صاف ہوا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جبکہ فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے موثر نگرانی، پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد اور تمام متعلقہ شعبوں میں اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف ہوا کے حصول کے لیے صنعت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو 2040 تک معاشی اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بندی کی طرح ماحولیاتی بہتری کے لیے بھی طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ اور صاف توانائی کا فروغ ناگزیر ہے۔

مشترکہ ذمہ داری کا احساس

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صاف ہوا اور بہتر ماحول کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ جیسے اسٹیٹ بینک کی ایس ایم ایز فنانسنگ بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی کی طرح ہمیں ماحولیاتی پالیسیوں کو عوام کے لیے سود مند بنانا ہوگا۔

فضائی آلودگی اور انسانی صحت پر اثرات

وفاقی وزیر نے فضائی آلودگی کے صحت پر تباہ کن اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آلودگی کے نتیجے میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سمیت متعدد سنگین طبی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک جذباتی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے رپورٹ میں پڑھا کہ فضائی آلودگی انسانی زندگی کے کئی سال کم کر سکتی ہے، تو انہیں ہسپتالوں میں آلودگی سے متاثرہ ہزاروں مریض یاد آگئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم ماحول کو بہتر بناتے ہیں تو دراصل انسانی زندگیوں کو محفوظ بنا رہے ہوتے ہیں۔ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا خصوصی بچوں کی بہتری کا عزم بھی معاشرتی فلاح و بہبود کے اسی عزم کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ اس کے موثر نفاذ، ماہرین کی مشاورت اور عملی اقدامات پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ ایک صاف اور محفوظ ماحول کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں