مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

او آئی سی وزارتی کانفرنس میں پاکستان کی کامیاب میزبانی کی تعریف

او آئی سی وزارتی کانفرنس میں پاکستان کی کامیاب میزبانی کی تعریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین کے بارے میں نویں وزارتی کانفرنس میں شرکت کرنے والے مندوبین کی جانب سے پاکستان کی گرمجوشی، موثر تنظیم اور اسلامی دنیا میں جامع ترقی کیلئے خواتین کا بااختیار ہونا ضروری ہے، اس عزم کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔ مندوبین نے اس اجتماع کو تعاون کو مضبوط بنانے اور سیاسی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں مسلم دنیا کے وزراء، اعلیٰ حکام اور او آئی سی کے نمائندوں، بین الاقوامی تنظیموں اور شراکت دار اداروں کے شرکاء نے عالم اسلام میں خواتین کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر غور و خوض کیا اور مشترکہ پالیسیوں کے ذریعے تعاون کو بڑھانے کے طریقے تلاش کیے۔

مندوبین کا پرتپاک خیرمقدم اور پاکستان کی میزبانی

کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شام کی وزیر برائے سماجی امور و محنت ہند کباوت نے اپنے دورہ پاکستان کو یادگار اور علامتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کی شرکت نے کئی سالوں بعد شامی خواتین کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں واپسی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے پاکستان کی پرتپاک مہمان نوازی اور تقریب کے بہترین انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مندوبین کے پہنچنے کے لمحے سے ہی انہوں نے گھر جیسا محسوس کیا۔ کباوت نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور خواتین کے امور ان کی وزارت کی ترجیحات میں شامل ہیں اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس نئے خیالات پیدا کرے گی اور او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس، اسلام آباد اعلامیہ منظور کر لیا گیا کے تناظر میں رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گی۔ اسی طرح، او آئی سی کے ایک مندوب نے کہا کہ پاکستانی خواتین نے آنے والے وفود کا بطور مہمان نہیں بلکہ ایک خاندان کے افراد کے طور پر خیرمقدم کیا جو ملک کی سخاوت اور اسلامی بھائی چارے کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔

خواتین کی ترقی اور بااختیار بنانے کیلئے تعاون

مالدیپ کے وفد کی نمائندہ مریم رایا احمد نے کانفرنس کو خواتین کی ترقی اور صنفی مساوات پر اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو تقویت دینے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی بہترین مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کے بامعنی نتائج برآمد ہوں گے۔ سعودی عرب کی خاندانی امور کی کونسل کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر میمونہ الخلیل نے کہا کہ یہ کانفرنس خواتین کے مسائل کو اعلیٰ ترین پالیسی کی سطح پر رکھنے کے لیے او آئی سی کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی (او آئی سی) میں ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ انٹرنیشنل کوآپریشن ڈاکٹر الھاگی مانتا ڈرامہ نے کانفرنس کو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک بروقت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی کامیاب میزبانی کو سراہتے ہوئے اسے خواتین کے حقوق کے بارے میں حقیقی اسلامی نقطہ نظر پیش کرنے کا بہترین موقع قرار دیا۔ گیمبیا کی وزارت برائے صنفی، بچوں اور سماجی بہبود کی سیکرٹری اساتو جوبی نے کہا کہ کانفرنس نے مسلم دنیا میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو اجاگر کیا ہے۔ نائجیریا کی نمائندگی کرتے ہوئے خواتین کے امور اور سماجی ترقی کی وزیر ایمان سلیمان ابراہیم نے کہا کہ یہ کانفرنس ایک اہم وقت پر ہوئی ہے اور انہوں نے پاکستان کی شاندار مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔

کانفرنس کا مقصد اور شرکاء

خواتین پر 9ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس ’’او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی و اقتصادی اور سیاسی بااختیاریت: چیلنجز اور آگے بڑھنے کا راستہ‘‘ کے تحت منعقد ہوئی۔ او آئی سی وزارتی کانفرنس کا اختتام، پاکستان کو سربراہی منتقل کے بعد اس کانفرنس میں رکن ممالک کے درمیان کامیاب قومی تجربات کے تبادلے اور مشترکہ چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے عملی حکمت عملیوں کی نشاندہی کی گئی۔ کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے انسانی، ثقافتی اور سماجی امور کے سفیر ڈاکٹر طارق علی بخیت، ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی صدر سارا الشوری، مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار، سفیر نائلہ جبر، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، اراکین قومی اسمبلی صباء صادق اور وجیہہ قمر سمیت متعدد سفارت کاروں اور مسلم دنیا کے مندوبین نے شرکت کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں