مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ٹرمپ کا ایران کیساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ

تصویر

انقرہ (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ قائم جنگ بندی کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں تہران کے ساتھمذاکرات“وقت کا ضیاع” ہیں۔ انہوں نے یہ بیان ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہی۔

ٹرمپ کا یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان رات بھر جاری رہنے والی شدید فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔ امریکی فورسز نے ایران کے عسکری اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات پر جوابی حملے کیے۔ دونوں جانب سے نقصانات کی تفصیلات محدود پیمانے پر جاری کی گئی ہیں، تاہم کشیدگی میں اضافے کے باعث پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ واشنگٹن نے سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل کی متعدد کوششیں کیں، مگر ان کے بقول ایران نے ایسےاقداماتجاری رکھے جن سے خطے کے امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاع اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو دفاعِ خودی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ، یورپی ممالک اور متعدد علاقائی طاقتوں نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر سفارتی رابطے بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بالخصوص تیل کی قیمتوں، پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین کشیدگی میں کمی کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں یا خطہ ایک نئے اور وسیع تنازع کی طرف بڑھتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

تبصرے (1)

اپنی رائے دیں