سردار تنویر الیاس ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

آزاد کشمیر کی سیاست میں بڑی پیش رفت، سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کر لی
عبدالعلیم خان سے اہم ملاقات کے بعد اعلان، سابق وزراء علی شان سونی، ڈاکٹر نثار انصر ابدالی اور سردار افتخار رشید بھی استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بن گئے
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر):
آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے پاکستان پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد اپنے اہم سیاسی ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔
اس سلسلے میں سردار تنویر الیاس نے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے اہم ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے، تنظیمی امور اور آئندہ عام انتخابات کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد سردار تنویر الیاس نے اپنے دیرینہ رفقا کے ہمراہ استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ان کے ساتھ سابق وزیر حکومت علی شان سونی، سابق وزیر صحت ڈاکٹر نثار انصر ابدالی اور سابق مشیر حکومت سردار افتخار رشید بھی آئی پی پی میں شامل ہو گئے۔
اس موقع پر عبدالعلیم خان نے سردار تنویر الیاس اور ان کے ساتھیوں کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے استحکام پاکستان پارٹی کو آزاد کشمیر میں مزید سیاسی تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پی عوامی مسائل کے حل، سیاسی استحکام اور مؤثر عوامی نمائندگی کے لیے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرے گی۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سردار تنویر الیاس آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اور ان کے تجربے، عوامی رابطوں اور سیاسی اثر و رسوخ سے پارٹی کی تنظیمی و انتخابی حکمت عملی کو نئی توانائی ملے گی۔
اس موقع پر سردار تنویر الیاس نے عبدالعلیم خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے آزاد کشمیر میں ایک مضبوط، فعال اور عوام دوست سیاسی متبادل کی تشکیل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ذرائع کے مطابق شمولیت کے بعد استحکام پاکستان پارٹی نے آزاد کشمیر بھر میں تنظیمی سرگرمیاں تیز کرنے اور آئندہ عام انتخابات کے لیے جامع سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع اور مہاجرین کے حلقوں میں عوامی رابطہ مہم کو مزید منظم انداز میں آگے بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سردار تنویر الیاس اور ان کے قریبی ساتھیوں کی آئی پی پی میں شمولیت آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات خاص طور پر مہاجرین کے حلقوں میں نمایاں ہو سکتے ہیں، جہاں سردار تنویر الیاس کا سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اس پیش رفت سے استحکام پاکستان پارٹی کو آزاد کشمیر میں انتخابی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر ایک قابلِ ذکر نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ سردار تنویر الیاس کا شمار آزاد کشمیر کے بااثر سیاسی رہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔
