مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت

سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت

سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کردی ہے۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عمران خان کی طبی سہولیات، ہسپتال منتقلی، ذاتی معالجین تک رسائی اور اہلخانہ سے ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالت نے سماعت کے بعد سات صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا، جس میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کو آئندہ دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں آئندہ سماعت تک ان کا علاج اور طبی معائنہ جاری رکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے اعلیٰ سطح کا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ دستیاب تحریری حکمنامے کی رپورٹنگ کے مطابق بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہر امراض داخلیہ، ماہر امراض چشم اور ماہر امراض قلب شامل ہوں گے۔

عدالت نے عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شریک ہونے کی اجازت دی ہے۔

تحریری حکمنامے میں حکومت اور متعلقہ حکام کو عمران خان کے خلاف درج مقدمات، گرفتاریوں، زیر سماعت ٹرائلز اور سزاؤں کی مکمل تفصیلات بھی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے مقدمات سے متعلق ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کا مکمل طبی ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے اس معاملے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ محض طبی رپورٹس کی سمری کے بجائے مکمل طبی ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے تمام حقائق کا جائزہ لیا جاسکے۔

عدالت نے عمران خان کی اہلخانہ سے ملاقاتوں کے معاملے پر بھی احکامات جاری کیے۔ حکمنامے کے مطابق انہیں ہفتے میں ایک مرتبہ اہلخانہ سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر رابطے کی بھی اجازت ہوگی۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کی بہنوں کی گزشتہ عرصے کے دوران ان سے ہونے والی ملاقاتوں اور ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ عدالت نے جیل حکام کو متعلقہ ریکارڈ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران سخت سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے اور کسی قسم کا عوامی اجتماع نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کو بھی عمران خان کی صحت اور علاج کے معاملے کو سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پی ٹی آئی نے بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔

حکم کے مطابق عمران خان کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج، طبی معائنے اور دیگر متعلقہ اخراجات ان کی جانب سے یا ان کے اہلخانہ کی جانب سے برداشت کیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں آئندہ سماعت تک رکھنے کا حکم دیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر 2026 کو ہوگی۔

عمران خان کی صحت خصوصاً ان کی آنکھوں کے علاج کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے زیر بحث ہے۔ ان کے اہلخانہ اور ذاتی معالجین کی جانب سے بہتر طبی سہولیات اور ان کے پسندیدہ ڈاکٹروں تک رسائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے بعض مختلف تفصیلات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

سپریم کورٹ کے حالیہ تحریری حکمنامے کے بعد عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے، ان کے ذاتی معالج کو طبی عمل میں شامل کرنے، مکمل طبی ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے اور اہلخانہ سے ملاقات و بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کے معاملات پر واضح عدالتی ہدایات سامنے آگئی ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں