مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل ہے

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل ہے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کو پوری قوم اور امت مسلمہ کے لیے باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں تینوں برادر اسلامی ممالک کا اکٹھا ہونا، دنیا کو امن اور بھائی چارے کا طاقتور پیغام دیتا ہے۔

اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دوستی، باہمی تعاون اور تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ پاک، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ اور علاقائی امن کے لیے اہم پیش رفت ہے، بزنس کمیونٹی کا بھی ماننا ہے کہ اس سے خطے میں معاشی استحکام بھی آئے گا۔

اتحاد و یکجہتی کا پیغام

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی اقدام وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف کی قیادت اور ٹھوس کاوشوں سے ممکن ہوا ہے۔ سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کے مشکل کی گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو دفاعی اعتبار سے ایک بڑی پیشرفت ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بیان بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت پاکستان اس اتحاد کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔

علاقائی امن میں کردار

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وفاقی وزیر نے مکہ مکرمہ میں ہونے والے معاہدے کو امت مسلمہ کے لیے امید کا پیغام اور خوشی کا باعث قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ مقدس شہر میں تینوں ممالک کے اجتماع نے پوری دنیا کو اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔

انہوں نے تاریخی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے اس امید کا اظہار کیا اور دعا کی کہ تینوں برادر ممالک کے درمیان محبت، اتحاد، دوستی اور تعاون کے رشتے آنے والے سالوں میں مزید مضبوط ہوں گے، اور شہباز شریف سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس پہنچ گئے ہیں جس کے بعد سے ان اہم فیصلوں پر عملدرآمد کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں