مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان آرگینک زراعت کے فروغ سے برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے

پاکستان آرگینک زراعت کے فروغ سے برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک زراعت اور خوراک پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ آرگینک زراعت کے شعبے میں دنیا کے کامیاب ممالک کے ماڈلز کا بغور مطالعہ کیا جائے اور پاکستان میں ان کی طرز پر پائلٹ پراجیکٹس کا آغاز کیا جائے۔ نجم مزاری کا کہنا ہے کہ عالمی آرگینک خوراک کی مارکیٹ کا حجم 2024 میں 240 سے 250 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں ہر سال مثبت شرح نمو دیکھی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان جدید سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی اور عالمی معیارات کو اپنا لے تو اس وسیع منڈی میں اپنا نمایاں حصہ حاصل کر کے برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔

آرگینک مصنوعات اور برآمدی صلاحیت

نجم مزاری نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کی برآمدات کا زیادہ تر انحصار روایتی شعبوں جیسے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس پر ہے، جبکہ آرگینک زرعی مصنوعات ہماری برآمدی فہرست میں ایک بڑا اور مستحکم اضافہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں آرگینک باسمتی چاول، آم، کینو، کھجور، سبزیاں، مصالحہ جات، شہد، دالیں، جڑی بوٹیاں اور گوشت عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معدنی ذخائر اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں جدید سرٹیفکیشن اور ٹریس ایبلٹی سسٹم کے قیام سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر بڑی عالمی منڈیوں تک رسائی انتہائی آسان بنائی جا سکتی ہے۔

قومی برآمدی حکمت عملی اور ماحول دوست زراعت

انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ آرگینک شعبے کو ملکی سطح پر ‘قومی برآمدی حکمت عملی’ کا اہم حصہ بنایا جائے تاکہ قیمتی زرِ مبادلہ میں نمایاں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔ نجم مزاری کے مطابق آرگینک زراعت کے فروغ سے زمینوں میں کیمیائی کھادوں اور مضر صحت زرعی ادویات کے اندھا دھند استعمال میں نمایاں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ انسانی صحت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کے باہمی اشتراک اور تعاون سے پاکستان کو آرگینک زرعی مصنوعات کا ایک اہم عالمی برآمدی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ جیسے ملک میں سیالکوٹ کی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا، اسی طرح زرعی شعبے کی جدید کاری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مزید برآں، کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے تعلیمی اداروں اور ورک فورس کے مابین روابط کو مضبوط بنانا بھی لازم ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں