مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

طاقتور حلقے اب مسلم لیگ ن کی حکومت بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر

طاقتور حلقے اب مسلم لیگ ن کی حکومت بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ “طاقتور حلقے” اب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ناکامیوں کا مزید بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔ گورنر ہاؤس لاہور میں پاکستان انگلش میڈیا ایسوسی ایشن کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں سے حکومت کی ناکامیوں کو سہارا دینے والے عناصر اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ وقت گزر چکا جب مسلم لیگ (ن) کو “سسٹم کی لاڈلی جماعت” سمجھا جاتا تھا۔

پیپلز پارٹی کا اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ

سردار سلیم حیدر نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا، تاہم اب پارٹی نے آئندہ عام انتخابات تک، بالخصوص پنجاب میں، ایک مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز اور پنجاب کی ن لیگی حکومتیں اپنی ناکامیوں اور مبینہ بدعنوانی کو چھپانے کے لیے میڈیا مینجمنٹ کا سہارا لیتی رہی ہیں، لیکن پیپلز پارٹی اب اس طرزِ عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے آزاد کشمیر انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ پرامن اور شفاف رہا، اسی طرح پنجاب میں بھی سیاسی فعالیت کو عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

تحریری معاہدے کی تردید اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی

گورنر پنجاب نے ان تمام قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا جن کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت وزیراعظم شہباز شریف ڈھائی سال بعد وزارتِ عظمیٰ بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی کا کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ نے کہا کہ اتحاد میں شامل ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پارٹی حکومت کی پالیسیوں یا عوامی مسائل پر خاموش رہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پیپلز پارٹی نہ تو اندھی، نہ بہری اور نہ گونگی ہے، اور وہ عوامی مفاد میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ یہ سیاسی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آزاد کشمیر انتخابات میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن کو برتری کے بعد سیاسی درجہ حرارت بڑھ چکا ہے، جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چینی سفیر کی اہم ملاقات جیسی مصروفیات کے باوجود پنجاب آئندہ سیاسی کشمکش کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں