نجی میڈیکل کالجز میں 18 سے 21 لاکھ روپے فیس مقرر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی صحت ڈاکٹر نیلسن عظیم نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر کے نجی میڈیکل کالجز میں سالانہ فیس کی حد 18 سے 21 لاکھ روپے تک مقرر کر دی گئی ہے اور زائد فیس وصول کرنے والے 45 تعلیمی اداروں کو سخت شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں آسیہ ناز تنولی اور دیگر اراکین کی جانب سے اسلام آباد کے میڈیکل کالجز اور نجی ہسپتالوں میں بھاری فیسوں اور اضافی چارجز کے حوالے سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر نیلسن عظیم نے کہا کہ حکومت اس اہم معاملے پر انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں قائم ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیس کا ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔
فیسوں کا تعین اور پی ایم ڈی سی کا کردار
پارلیمانی سیکرٹری نے وضاحت کی کہ بنیادی طور پر فیس 18 لاکھ روپے سالانہ طے کی گئی تھی، تاہم کچھ کالجز نے اپنی فراہم کردہ اضافی سہولیات کے پیش نظر 25 لاکھ روپے فیس مقرر کرنے کی درخواست کی۔ اس حوالے سے 61 اداروں نے درخواستیں جمع کروائیں جن میں سے 35 کالجز کی اپیلوں کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کی فیس 21 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ایک شکایات پورٹل بھی قائم کیا ہے جہاں طلبا و والدین اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ شکایات موصول ہونے کے بعد 45 اداروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ اپنے ٹیکس ریکارڈ سمیت تمام ضروری دستاویزات فراہم کریں۔ ڈاکٹر نیلسن عظیم نے واضح کیا کہ اگر زائد فیس کا سلسلہ بند نہ ہوا تو متعلقہ اداروں کا کوٹہ کم کر دیا جائے گا۔
میڈیکل تعلیم کا معیار اور ڈاکٹرز کی بیرون ملک مانگ
اس دوران مصطفی کمال نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں کل 22 ہزار ڈاکٹرز کی سیٹس ہیں جن میں 35 سرکاری میڈیکل کالجز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 96 ہزار طلبا نے داخلے کے لیے اپلائی کیا جن میں سے 22 ہزار کو داخلہ مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں اور امریکہ کے سرٹیفائیڈ اداروں کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی سرٹیفیکیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری میڈیکل تعلیم کا معیار بہترین ہے۔ انہوں نے طلبا کو مشورہ دیا کہ وہ صرف پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ پر موجود تسلیم شدہ کالجز میں ہی داخلہ لیں اور صرف ایم ڈی کیٹ پاس کرنے والے طلبا ہی داخلے کے اہل ہیں۔ ڈپٹی سپیکر نے ہدایت کی کہ نجی شعبے میں میڈیکل فیسوں کو مکمل طور پر ریگولیٹ کیا جائے تاکہ طلبا کا استحصال نہ ہو سکے۔ یاد رہے کہ 188 میڈیکل کالجز میں سے صرف 35 کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی فیس 18 لاکھ سے بڑھا کر 21 لاکھ تک لے جا سکتے ہیں، تاہم اس سے زائد فیس کا مطالبہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس حکومتی اقدام سے طلباء کے والدین کو بڑی ریلیف ملنے کی امید ہے۔