مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سعودی عرب کی بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں کیخلاف عالمی اتحاد کی اپیل

سعودی عرب کی بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں کیخلاف عالمی اتحاد کی اپیل

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سمندری تجارت اور عالمی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ عالمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران امریکا کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لیا ہے، جس کے اثرات عالمی بحری گزرگاہوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ احمر اور باب المندب کی آبی گزرگاہ میں حوثیوں کے مسلسل حملے نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

سعودی عرب کا عالمی اتحاد کا مطالبہ

سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صرف علاقائی اقدامات کافی نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے ایک ایسا اتحاد تشکیل دینا چاہیے جو بحری جہازوں کی حفاظت، تجارتی راستوں کے تسلسل اور عالمی معیشت کو لاحق خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔ رپورٹ کے مطابق حوثی گروپ نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل یا اسرائیل سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کا دائرہ وسیع ہو گیا، جس کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں اپنے جہازوں کا رخ بحیرۂ احمر کے بجائے جنوبی افریقہ کے راستے موڑنے پر مجبور ہوئیں۔

عالمی معیشت کے تحفظ کی ضرورت

سعودی حکام نے زور دیا کہ بحیرۂ احمر کی سلامتی صرف مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے بین الاقوامی شراکت داروں کو مربوط اور مؤثر اقدامات کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ جیسے ماضی میں پاکستان اور کویت کے درمیان اہم دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیر مقدم کرتے ہیں، دفتر خارجہ کی جانب سے سکیورٹی شراکت داری کو اہمیت دی گئی، اسی طرح سعودی عرب بھی عالمی تعاون کا متقاضی ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی، بحری سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک اپنی دفاعی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں، جیسا کہ نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی نیول اور ایئر چیفس سے ملاقات کے دوران دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں