مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سید مصطفیٰ کمال کا ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کیلئے قومی پروگرام کا اعلان

سید مصطفیٰ کمال کا ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کیلئے قومی پروگرام کا اعلان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی سکریننگ یقینی بنائی جا رہی ہے، اس سلسلے میں وزارتِ صحت کے تمام ملازمین، وزیر سے لے کر آفس بوائے تک کے لئے ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ جاری بیان کے مطابق وزارتِ صحت کے تمام اداروں اور وفاقی وزارتوں کو بھی خطوط ارسال کئے جا رہے ہیں تاکہ ان کے تمام ملازمین کی سکریننگ مکمل کی جائے۔

اسلام آباد سے قومی سطح پر سکریننگ کا آغاز

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد سے اس قومی پروگرام کا آغاز اس لئے کیا گیا کیونکہ یہ پورے پاکستان کے لئے ہے۔ اسلام آباد میں اس وقت سرکاری سطح پر 17 سکریننگ سینٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ نجی ہسپتالوں کے مالکان سے بھی ملاقاتیں کی گئی ہیں تاکہ ان کے ہسپتالوں میں حکومت کی جانب سے سکریننگ کا سامان اور آلات فراہم کئے جائیں گے اور ان کے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مفت سکریننگ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ملک بھر کے 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی سکریننگ کرنا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے بھی کٹس اور ضروری آلات کا انتظام کر لیا گیا ہے اور وہاں جلد سکریننگ کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ صوبے بھی بتدریج اس قومی مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔ جیسا کہ ملائیشیا کے وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کے موقع پر بھی عسکری و سول قیادت نے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا، اسی طرح حکومت پاکستان اور گوگل کے درمیان ایم او یو پر دستخط جیسے اقدامات سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہتری آئی ہے، اسی طرح صحت کے شعبے کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل نظام اور نادرا کے ساتھ انضمام

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور دیگر اہم داخلی و خارجی مقامات پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد کی سکریننگ کی جا رہی ہے، آئندہ دو سے تین ماہ میں اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مردم شماری کے لئے استعمال ہونے والے جدید آلات سے استفادہ کیا جا رہا ہے جبکہ سکریننگ کا تمام ڈیٹا ڈیجیٹل اور ریئل ٹائم بنیادوں پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سکریننگ کا ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا سے منسلک ہوگا جس کے نتیجے میں ہر فرد کی سکریننگ کی معلومات مستقبل میں بھی دستیاب رہیں گی۔

مریضوں کیلئے مفت علاج اور ادویات کی فراہمی

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں تاہم پورے ملک کی سکریننگ مکمل ہونے کے بعد ہی بیماری سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد سامنے آ سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش اور خطرناک بیماری ہے، اگر بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو اس کا مؤثر اور مکمل علاج ممکن ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق حکومتِ پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو تین ماہ کے علاج کی دوا بالکل مفت فراہم کر رہی ہے جس کی مالیت تقریباً 34 ہزار روپے ہے۔

اگر ضرورت پڑے تو علاج کا دوسرا کورس بھی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے یعنی ایک مریض کو تقریباً 68 ہزار روپے تک کی ادویات بھی حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جائے گی اسی طرح سکریننگ ٹیسٹ بھی عوام کے لئے مکمل طور پر مفت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے خود بھی ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کرائی ہے اور الحمدللہ ان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ قریبی سکریننگ سینٹر جائیں اور صرف چند منٹ میں اپنا ٹیسٹ کرائیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں