مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ چاہتا ہے: صدر احمد الشرع

شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ چاہتا ہے: صدر احمد الشرع

دمشق (نمائندہ خصوصی)۔ شام کے صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکومت متعدد علاقائی اور بین الاقوامی ممالک کی شمولیت سے اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اس ممکنہ پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں جامع امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ شام کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اس کے تاریخی اور قانونی دعوے سے دستبرداری کے مترادف نہیں ہوگا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر احمد الشرع نے الجزیرہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ دمشق ایسی سکیورٹی ترتیبات چاہتا ہے جو شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی کو کم کریں، فوجی تصادم کے امکانات محدود کریں اور مستقبل میں ایک وسیع تر سیاسی اور امن معاہدے کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور رافیل گروسی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ کے بعد جس طرح بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہوئی ہیں، اسی طرح شام بھی اپنے معاملات کو بہتر کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام اپنی سرزمین، بالخصوص 1967 سے اسرائیلی قبضے میں موجود گولان کی پہاڑیوں پر اپنے مؤقف سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔ صدر احمد الشرع نے کہا کہ ان کی حکومت موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، کیونکہ مسلسل کشیدگی دونوں ممالک اور پورے خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مناسب ضمانتوں اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ موجودہ بحران کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

شام میں نئی سیاسی قیادت اور علاقائی صورتحال

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں نئی سیاسی قیادت اقتدار میں آئی، جبکہ اسی عرصے کے دوران اسرائیل نے جنوبی شام میں متعدد فضائی حملے کیے اور سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھیں۔ شام کی نئی حکومت ان حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام کا ہمسایہ ملک میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی امیر جماعت اسلامی سے اہم ملاقات کی طرح سیاسی ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دمشق حکومت لبنانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ملک کو سیاسی، سکیورٹی اور معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مختلف تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے اس اصول کی بھی حمایت کی کہ لبنان میں اسلحے کے استعمال اور جنگ یا امن سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار صرف ریاستی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔

معاشی بحالی اور لاپتا افراد کا مسئلہ

صدر احمد الشرع نے خبردار کیا کہ اگر لبنان میں بدامنی یا داخلی انتشار مزید بڑھتا ہے تو اس کے براہِ راست اثرات شام پر بھی مرتب ہوں گے۔ اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ ملک کی بحالی کے لیے صرف امریکی اور دیگر مغربی پابندیوں کا خاتمہ کافی نہیں ہوگا بلکہ شام کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے نکالنا بھی ناگزیر ہے۔ ان کے بقول اس اقدام سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی، بین الاقوامی بینکنگ نظام تک رسائی بحال ہوگی اور تباہ حال معیشت کی تعمیر نو میں مدد ملے گی۔ انہوں نے شمالی اور مشرقی شام میں سرگرم شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا اور اعتراف کیا کہ اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی ہے، تاہم حکومت اب بھی اس معاہدے پر مکمل طور پر قائم ہے۔ خیبرپختونخوا میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تبدیل، آر ایف آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کروانے جیسے انتظامی اصلاحات کے ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک بھر میں ریاستی عملداری بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ صدر احمد الشرع نے خانہ جنگی کے دوران لاپتا ہونے والے افراد کے مسئلے کو بھی اپنی حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ 2011 سے 2024 تک لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے ایک خصوصی قومی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کرے گی اور متعلقہ شعبے میں مہارت رکھنے والے ممالک اور اداروں کے تعاون سے لاپتا افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام کی تقریباً 13 سالہ خانہ جنگی کے دوران کم از کم ایک لاکھ افراد جبری طور پر لاپتا ہوئے، جبکہ شامی قومی کمیشن کا اندازہ ہے کہ لاپتا افراد کی تعداد تین لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مسئلے کا حل شام میں قومی مفاہمت، انصاف اور سیاسی استحکام کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں