مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکانات پر غور

ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکانات پر غور

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے سلسلے میں ایران میں محدود پیمانے پر زمینی فوج بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ امریکی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع سمیت دیگر عسکری آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ایران کے خلاف عسکری حکمت عملی پر غور

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی منصوبوں پر اعلیٰ فوجی اور قومی سلامتی کے حکام نے بریفنگ دی، جس میں مختلف عسکری آپشنز، ان کے ممکنہ نتائج اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی معاشی اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

محدود زمینی کارروائی اور فضائی حملوں کا جائزہ

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں فضائی کارروائیوں میں توسیع، حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے اور محدود زمینی کارروائی کے امکانات شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ابھی کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا ہے، تاہم مختلف فوجی آپشنز زیر غور ہیں اور ان کے عسکری، سفارتی اور سیاسی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مقاصد اور حکومتی مؤقف

اخبار کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا، اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ جیسے حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفافیت کیلئے پرعزم ہے، اسی طرح بین الاقوامی امور میں بھی شفافیت کی اہمیت برقرار ہے۔ اگرچہ ان رپورٹس پر امریکی حکومت کی جانب سے ابھی تک کسی بھی قسم کی باضابطہ تصدیق یا اعلان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر ان قیاس آرائیوں کو تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح عالمی مسائل کے حل کے لیے پائیدار ترقی کیلئے عالمی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں