مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام پر e& برانڈ نام معطل

یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام پر e& برانڈ نام معطل

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت نے یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد تشکیل پانے والی نئی کمپنی کو ‘e&’ کے نام سے ری برانڈ کرنے کی تجویز پر قانونی اور انتظامی تحفظات کے پیشِ نظر فی الحال عمل درآمد روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیلی کام سیکٹر میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں، جیسا کہ حال ہی میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور رافیل گروسی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ سمیت مختلف اہم امور پر حکومتی سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔

قانونی تحفظات اور کارپوریٹ شناخت

میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ نام کی تبدیلی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نئی کارپوریٹ شناخت میں ‘پاکستان’ کا نام شامل نہیں ہوگا۔ حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ اتنی اہم نوعیت کی تبدیلی سے قبل تمام قانونی، ریگولیٹری اور کارپوریٹ تقاضوں کو پورا کرنا ناگزیر ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ قومی سطح کے اداروں کی پالیسی سازی میں پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی ریسرچ سینٹر قائم کرنے پر اتفاق جیسے دیگر معاہدوں کی طرح شفافیت اور قومی وقار کو مقدم رکھا جاتا ہے۔

اعلیٰ سطح پر مداخلت اور آئندہ کا لائحہ عمل

اطلاعات کے مطابق یوفون کے بورڈ نے مجوزہ برانڈ نام کی منظوری دی تھی، حالانکہ اس سے قبل پی ٹی سی ایل کے بورڈ میں اس معاملے پر فیصلہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ معاملہ اعلیٰ حکومتی سطح پر پہنچا، جہاں قانونی رائے حاصل ہونے تک ری برانڈنگ کے عمل کو روکنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے لا ڈویژن سے رائے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا کسی ذیلی کمپنی کا بورڈ انضمام کے تمام قانونی مراحل مکمل ہونے سے پہلے نئی کارپوریٹ شناخت کی منظوری دینے کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں۔

کارپوریٹ گورننس پر سوالات

اس معاملے نے سرکاری شراکت والی کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس اور نگرانی کے نظام پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی اہمیت کے حامل اداروں سے متعلق بڑے فیصلے مکمل قانونی تقاضے پورے ہونے اور متعلقہ فورمز کی منظوری کے بعد ہی نافذ کیے جانے چاہئیں۔ واضح رہے کہ پی ٹی سی ایل، ٹیلی نار پاکستان کو یوفون کے ساتھ ضم کرنے کے عمل سے گزر رہی ہے تاکہ ملک کی بڑی موبائل ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں میں سے ایک تشکیل دی جا سکے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانونی جائزہ مکمل ہونے تک مجوزہ ‘e&’ برانڈ کے نفاذ پر کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں