اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے، ملاقاتیں، بیٹوں سے بات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے، ملاقاتیں، بیٹوں سے بات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا حکم
اسلام آباد، یکم ستمبر: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں جیل قوانین کے مطابق ملاقاتوں، ٹیلی فونک گفتگو، اخبارات، کتابوں اور طبی سہولیات سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مبینہ قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا۔ عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے اور 15 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے واضح کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور انہیں جیل قوانین کے تحت دستیاب تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔
فیصلے میں بشریٰ بی بی کو عمران خان سے ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی، جبکہ عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ فیصلے کے مطابق یہ ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کی جائے گی، تاہم اگر اس سہولت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو اسے واپس لیا جاسکتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے اور جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔
مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستیں عمران خان کی بہن علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ دونوں کو جیل میں مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا جارہا ہے اور انہیں ملاقاتوں سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔
دورانِ سماعت جیل حکام نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزام کی تردید کی تھی۔ جیل حکام کا مؤقف تھا کہ دونوں قیدیوں کو قانون اور جیل رولز کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر قیدِ تنہائی کی سزا نہیں دی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 7 جولائی کو جیل حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی کہ آیا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھا جارہا ہے، اگر ایسا ہے تو کس قانونی اختیار اور قانون کے تحت اور کتنی مدت کے لیے انہیں اس صورتحال کا سامنا ہے۔
بعد ازاں فریقین کے تفصیلی دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے 6 اگست کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو یکم ستمبر کو سنایا گیا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا اور 15 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرانا ہوگی۔