امریکا نے دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز معطل کر دیئے

امریکا نے دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز معطل کر دیئے
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں امیگرنٹ ویزا انٹرویوز اور اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روکنے یا دوبارہ شیڈول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد قونصلر افسران کو ویزا درخواستوں کی مزید سخت جانچ کے لیے نئے طریقہ کار کی تربیت دینا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے قونصلر افسران کے لیے ایک تربیتی پروگرام جاری ہے، جس میں درخواست گزاروں کی مالی صورتحال اور اس بات کا جائزہ لینے کے طریقہ کار پر توجہ دی جا رہی ہے کہ آیا متعلقہ شخص مستقبل میں امریکی حکومت کی عوامی فلاحی سہولیات پر انحصار کر سکتا ہے یا نہیں۔
نئی پالیسی سے بنیادی طور پر وہ افراد متاثر ہوں گے جو مستقل طور پر امریکا منتقل ہونے کے لیے امیگرنٹ ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں امریکی شہریوں کے اہل خانہ، مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ کے خواہشمند افراد اور بعض روزگار کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزا حاصل کرنے والے درخواست گزار شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق متعدد درخواست گزاروں کے پہلے سے طے شدہ انٹرویوز منسوخ یا نئی تاریخوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ امیگرنٹ ویزا انٹرویوز معمول کے مطابق کب بحال ہوں گے۔ بعض رپورٹس میں نئی تربیت کا عمل ستمبر کے وسط تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی سرکاری تاریخ سامنے نہیں آئی۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ اقدام تمام اقسام کے ویزوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ سیاحتی، کاروباری، طلبہ اور دیگر نان امیگرنٹ ویزوں کے درخواست گزار اس عالمی سطح پر امیگرنٹ ویزا انٹرویوز کی عارضی معطلی میں شامل نہیں ہیں۔ تاہم نان امیگرنٹ ویزوں کے لیے بھی امریکا کی جانب سے اسکریننگ اور سکیورٹی جانچ کے مختلف سخت اقدامات پہلے سے جاری ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کی مالی حیثیت جانچنے کے لیے ’’پبلک چارج‘‘ پالیسی پر بھی زیادہ سختی سے عملدرآمد کر رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت بعض درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا پڑ سکتا ہے کہ وہ امریکا پہنچنے کے بعد حکومتی مالی معاونت پر انحصار نہیں کریں گے۔ بعض مخصوص حالات میں درخواست گزاروں سے پبلک چارج بانڈ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسی سخت کرنے کی وسیع تر کوششوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔ انتظامیہ نے اس سے قبل 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے سے متعلق پابندیاں بھی عائد کی تھیں، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے ایک وفاقی جج نے اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا تھا۔
حالیہ اقدام کے تحت امریکا نے ویزا نظام مکمل طور پر بند نہیں کیا بلکہ امیگرنٹ ویزا انٹرویوز اور اپائنٹمنٹس کو عارضی طور پر روکنے یا دوبارہ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق اس عمل کا مقصد دنیا بھر میں تعینات قونصلر افسران کو درخواستوں کی یکساں، جامع اور سخت اسکریننگ کے لیے تیار کرنا ہے۔