بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، 30 ووٹ حاصل کرلئے

بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، 30 ووٹ حاصل کرلئے
مظفرآباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی آزاد جموں و کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والی رائے شماری میں انہوں نے 30 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مجموعی طور پر 53 نشستیں ہیں، تاہم اس وقت 46 ارکان موجود ہیں کیونکہ پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی 7 نشستوں پر انتخابات نہیں ہوئے۔ موجودہ ایوان میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کو 32 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 14 ہے۔
وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 44 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے علاقائی صدر شاہ غلام قادر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ ووٹوں کی گنتی کے بعد اسپیکر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کی کامیابی کا اعلان کیا، جس کے بعد ایوان میں موجود ارکان اور گیلریوں سے مبارکباد کے نعرے بلند ہوئے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی جانب سے کی گئی تھی۔ ان کا نام وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے سامنے آنے کے بعد پارٹی کے اندر بعض اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے، تاہم انتخاب کے موقع پر پارٹی قیادت نے ان کی حمایت برقرار رکھی۔
افتخار گیلانی اس سے قبل بھی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ 2011 میں اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور ماضی میں آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ حالیہ اسمبلی میں وہ ٹیکنوکریٹ نشست پر منتخب ہوئے تھے۔
ان کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد عباسی سے تھا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 14 ووٹ ملے اور یوں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے واضح اکثریت سے وزارت عظمیٰ حاصل کرلی۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور کی جگہ وزارت عظمیٰ سنبھالی ہے، جو نومبر 2025 میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔
ان کے انتخاب کے ساتھ آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو حکومت کی قیادت حاصل ہوگئی ہے، جبکہ نئی حکومت کو خطے میں سیاسی استحکام، انتظامی امور، ترقیاتی منصوبوں اور آزاد کشمیر کے بنیادی سیاسی و سفارتی معاملات پر توجہ دینا ہوگی۔