مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

دنیا کی بڑی ہیومنائیڈ روبوٹ کمپنی کے بانی وانگ شنگ شنگ پہلے روبوٹکس ارب پتی بن گئے

دنیا کی بڑی ہیومنائیڈ روبوٹ کمپنی کے بانی وانگ شنگ شنگ پہلے روبوٹکس ارب پتی بن گئے

دنیا کی بڑی ہیومنائیڈ روبوٹ کمپنی کے بانی وانگ شنگ شنگ پہلے روبوٹکس ارب پتی بن گئے

بیجنگ: چین کی ہیومنائیڈ روبوٹ ساز کمپنی یونٹری روبوٹکس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو وانگ شنگ شنگ آئی پی او سے قبل روبوٹکس کے شعبے سے ارب پتی بننے والے پہلے کاروباری شخص بن گئے ہیں۔

وی این ایکسپریس کے مطابق یونٹری نے شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی عوامی پیشکش کے لیے فی شیئر قیمت 150.8 یوآن مقرر کی ہے، جس کے بعد کمپنی کی متوقع مالیت تقریباً 61 ارب یوآن، یعنی 9.04 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔

فوربز کے مطابق 36 سالہ وانگ شنگ شنگ کے یونٹری میں حصص کی مالیت تقریباً 2.4 ارب ڈالر بنتی ہے، جس کے باعث وہ چین میں ہیومنائیڈ روبوٹکس کے شعبے سے ارب پتی بننے والے پہلے کاروباری شخص بن گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یونٹری آئی پی او کے ذریعے تقریباً 6.1 ارب یوآن حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ رقم نئی روبوٹک مصنوعات کی تیاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور ٹیکنالوجی و سافٹ ویئر کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت کی چینی کمپنی ڈیپ سیک بھی یونٹری کے اسٹریٹجک سرمایہ کاروں میں شامل ہے۔

وانگ شنگ شنگ نے 2016 میں یونٹری روبوٹکس کی بنیاد رکھی تھی۔ کمپنی نے ابتدا میں چار ٹانگوں والے روبوٹس تیار کیے اور بعد ازاں ہیومنائیڈ روبوٹس کے شعبے میں قدم رکھا۔ یونٹری کو ہیومنائیڈ روبوٹس کی فروخت اور ترسیل کے اعتبار سے دنیا کی نمایاں کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں یونٹری کی آمدن چار گنا سے زیادہ اضافے کے بعد 1.7 ارب یوآن تک پہنچ گئی، جبکہ ہیومنائیڈ روبوٹس سے حاصل ہونے والی آمدن 867.8 ملین یوآن رہی۔

یونٹری کی آئی پی او ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب چین میں ہیومنائیڈ روبوٹکس کی صنعت تیزی سے ترقی کررہی ہے اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور آٹومیشن کو مستقبل کی اہم ٹیکنالوجیز میں شمار کیا جارہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں