سعودی عرب کی تیل پیداوار 36 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

سعودی عرب کی تیل پیداوار 36 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
ریاض، 10 ستمبر: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور اگست میں ملک کی تیل پیداوار تقریباً 36 سال کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔ اگست میں سعودی عرب نے تقریباً 6.2 ملین بیرل یومیہ خام تیل پیدا کیا، جو جولائی کے مقابلے میں 23 فیصد کم ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی تیل پیداوار میں یہ نمایاں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران جنگ، آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے مغربی ساحلی علاقوں اور تیل کی ترسیل کے راستوں کو نشانہ بنانے کے باعث تیل کی برآمدات شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور اس کی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی کے لیے خلیج فارس اور بحیرہ احمر دونوں اہم راستے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں مسلسل کشیدگی کے باعث سعودی عرب نے اپنی تیل کی سپلائی اور برآمدات کے کچھ حصے کو متبادل راستوں، بالخصوص بحیرہ احمر کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم حوثی حملوں اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں نے ان متبادل راستوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
سعودی خام تیل کی برآمدات بھی اگست میں نمایاں طور پر کم ہو کر تقریباً 3.1 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں، جو کم از کم 2013 کے بعد کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ مغربی ساحل پر واقع بندرگاہوں سے عالمی منڈیوں تک تیل پہنچانے میں مشکلات کے باعث سعودی عرب کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی تیل پیداوار میں کمی محض اوپیک پلس کی پیداواری پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ موجودہ جنگی حالات اور برآمدی انفراسٹرکچر کو درپیش سکیورٹی خطرات بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی تیل کی برآمدات کے خلاف اعلان کردہ سمندری پابندی اور بحیرہ احمر و باب المندب کے قریب بڑھتے ہوئے حملوں نے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب عالمی تیل مارکیٹ پر بھی اس صورتحال کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جو جولائی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ مارکیٹ میں خدشہ ہے کہ اگر سعودی عرب سمیت خطے کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات مزید متاثر ہوئیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اگست میں اوپیک کے 11 ارکان کی مجموعی تیل پیداوار بھی تقریباً 640 ہزار بیرل یومیہ کم ہوئی اور 19.71 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔ سعودی عرب میں برآمدی رکاوٹیں اور ایران سے تیل کی ترسیل پر امریکی پابندیوں اور بحری کارروائیوں نے اوپیک کی مجموعی پیداوار کو متاثر کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جنگی صورتحال طویل ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر کے اہم تجارتی راستے مسلسل دباؤ کا شکار رہتے ہیں تو عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔ سعودی عرب کی پیداوار اور برآمدات میں موجودہ کمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے اثرات اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی تیل کی سپلائی، قیمتوں اور توانائی کی سلامتی کو بھی براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔