شام اور روس کا اہم معاہدہ، شام کی ساحلی علاقوں میں روسی اڈوں کی حیثیت تبدیل کرنے پر اتفاق

شام اور روس کا اہم معاہدہ، شام کی ساحلی علاقوں میں روسی اڈوں کی حیثیت تبدیل کرنے پر اتفاق
لندن: شام اور روس نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شام کے ساحلی علاقوں میں روسی فوجی تنصیبات کی حیثیت میں تبدیلی اور بعض مراکز کو شامی حکومت کے انتظام میں دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ مفاہمت حمیمیم اور طرطوس میں روسی تنصیبات کے مستقبل سے متعلق تقریباً 18 ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ معاہدے کے تحت حمیمیم ایئرپورٹ اور طرطوس بندرگاہ کی چوتھی کمرشل برتھ سمیت بعض شہری استعمال کی تنصیبات شام کے کنٹرول میں منتقل کی جائیں گی۔
شامی وزارت خارجہ کے مطابق روسی فوجی تنصیبات کو مشترکہ تربیتی اور اہلیت کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ منتقلی کا عمل تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

شامی حکام نے مفاہمتی یادداشت کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے بعد اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شام اور روس کے تعلقات میں نئے مرحلے کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے سے شام کی عبوری حکومت کو روسی فوجی موجودگی کی شرائط طے کرنے میں زیادہ اختیار حاصل ہوگا، جبکہ روس بھی اپنی موجودگی مکمل طور پر ختم کیے بغیر بعض اہم اسٹریٹجک مقامات تک رسائی برقرار رکھ سکے گا۔
عرب نیوز کے مطابق شام میں روسی فوجی موجودگی طویل عرصے سے بحیرہ روم کے ساحلی علاقے میں طرطوس بحری تنصیب اور لطاکیہ کے قریب حمیمیم ایئربیس پر مرکوز رہی ہے۔ روس نے 2015 میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں شام کی جنگ میں براہ راست فوجی مداخلت کی تھی اور ان تنصیبات کو فوجی کارروائیوں اور رسد کے لیے استعمال کیا۔
بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں روسی فوجی موجودگی میں کمی آئی، تاہم ماسکو نے نئی شامی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے دوران دونوں تنصیبات تک رسائی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ معاہدہ شام سے روسی موجودگی کے مکمل خاتمے کے بجائے اسے نئے انتظامی اور عسکری فریم ورک کے تحت منظم کرنے کی کوشش ہے، جس سے دمشق روس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے روابط بھی بڑھا سکتا ہے۔