عدالتی احکامات کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کے بل درست کیے جائیں، اجمل بلوچ

عدالتی احکامات کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کے بل درست کیے جائیں، اجمل بلوچ
اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد محمود چوہدری، کراچی کمپنی کے صدر راجہ ذوالفقار، جنرل سیکرٹری شاہد حسین عباسی، جی ٹین مرکز کے صدر میاں کامران کاکاخیل، جی الیون مرکز کے صدر نعیم اعوان، ایف الیون مرکز کے صدر مہر اللہ داد، ایف ٹین مرکز کے صدر احمد خان، جنرل سیکرٹری نعیم اقبال، سپر مارکیٹ کے صدر شہزاد عباسی، بلیو ایریا کے صدر یوسف راجپوت، ستارہ مارکیٹ کے صدر سید الطاف حسین شاہ، آئی ایٹ مرکز کے صدر چوہدری وحید چیمہ، آئی نائن مرکز کے صدر صفدر عباسی، سملی روڈ بھارہ کہو کے صدر راجہ زاہد دھنیال اور آبپارہ مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اختر عباسی نے کہا ہے کہ سی ڈی اے کے محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ پراپرٹی ٹیکس کے نئے اور اضافی بلوں نے اسلام آباد کی تاجر برادری اور شہریوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پراپرٹی ٹیکس کے معاملے میں واضح فیصلے صادر کرچکی ہے۔ ان عدالتی احکامات کی روشنی میں سی ڈی اے متنازع اور اضافی پراپرٹی ٹیکس کے بل واپس لے کر درست اور نظرثانی شدہ بل جاری کرنے کا پابند ہے۔ عدالتی فیصلوں کے مطابق منتخب بلدیاتی حکومت کے قیام تک نہ کوئی نیا ٹیکس عائد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پہلے سے نافذ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس سے متعلق مقدمات میں فیصلے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حق میں آچکے ہیں، جبکہ سی ڈی اے اور ایم سی آئی نے ان فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ محض اپیل زیر سماعت ہونے کی بنیاد پر عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنا، اضافی بل جاری کرنا یا شہریوں سے متنازع ٹیکس وصول کرنا مناسب نہیں۔
تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حتمی عدالتی فیصلے تک متنازع پراپرٹی ٹیکس بلوں کی وصولی، جرمانوں، سرچارج اور جائیدادیں سیل کرنے سمیت تمام تادیبی کارروائیاں فوری طور پر معطل کی جائیں۔ محکمہ ریونیو ہر مارکیٹ میں تاجروں کی سہولت کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرے تاکہ عدالتی احکامات کے مطابق بلوں کی بروقت تصحیح کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری مناسب، منصفانہ اور قانونی ٹیکسوں کی ادائیگی سے انکار نہیں کرتی، تاہم عدالتی احکامات کے برخلاف عائد کیے گئے اضافی مالی بوجھ کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات اور کاروباری اخراجات میں غیر معمولی اضافے کے باعث کاروباری طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے، ایسے حالات میں غیر قانونی یا متنازع ٹیکسوں کا نفاذ کاروبار دشمن اقدام ثابت ہوگا۔
اجمل بلوچ اور خالد محمود چوہدری نے چیئرمین سی ڈی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ ریونیو کو متنازع بل واپس لینے اور عدالتی فیصلوں کے مطابق درست بل جاری کرنے کی ہدایت کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد نہ کیا گیا تو تاجر برادری اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے توہین عدالت کی درخواست سمیت تمام قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔