فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے کی کارروائی، 3 اہم عمارات سیل

فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے کی کارروائی، 3 اہم عمارات سیل
اسلام آباد، 30 اگست: قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ اور فائر و لائف سیفٹی قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد بھر میں فائر سیفٹی قوانین کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔
حکومت کی جانب سے سیکرٹری وزارت داخلہ کے ذریعے جاری فیصلے کی روشنی میں سی ڈی اے نے اہم کارروائی کرتے ہوئے شہیدِ ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ اور بلیو ایریا میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کی عمارت کو سیل کردیا۔
سی ڈی اے کے مطابق مذکورہ عمارات میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے فائر سیفٹی سے متعلق پہلے جاری کردہ آبزرویشنز اور ہدایات پر مقررہ مدت گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث قواعد و ضوابط کے مطابق عمارات کو سیل کرنے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے متعلقہ شعبہ جات کو فائر سیفٹی کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی عمارت، ادارے یا تنظیم کو بنیادی فائر پریوینشن اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ضروری انتظامات نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
سی ڈی اے کا فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ اسلام آباد کی مختلف عمارات کے معائنے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ معائنوں کے دوران فائر پریوینشن انتظامات، ایمرجنسی ایگزٹس، فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی انخلا کی تیاری اور دیگر ضروری لائف سیفٹی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ معائنوں کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو مقررہ مدت میں دور کروانے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے۔
سی ڈی اے کے مطابق عمارات کو سیل کرنے کی کارروائی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ فائر سیفٹی مہم محض معائنوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی جانوں اور املاک کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے عملی انفورسمنٹ بھی کی جا رہی ہے۔ لازمی حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد نہ کرنے والی عمارات کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے متعلقہ شعبہ جات کو فائر سیفٹی اقدامات پر مسلسل نگرانی اور معائنوں کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو مؤثر اصلاحی اقدامات کے ذریعے دور کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
سی ڈی اے نے تمام سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر اداروں، تجارتی مراکز اور نجی عمارات کے مالکان و انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لے کر مقررہ حفاظتی معیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ فائر سیفٹی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ فائر فائٹنگ آلات کی بروقت تنصیب اور دیکھ بھال، واضح اور قابل رسائی ہنگامی راستوں، مؤثر انخلا کے انتظامات اور حفاظتی پروٹوکولز پر عملدرآمد ہنگامی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ عمارات کی انتظامیہ کو فائر سیفٹی سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کے لیے مقررہ وقت اور ضروری رہنمائی فراہم کی جائے گی، تاہم فائر اور لائف سیفٹی کے بنیادی تقاضوں پر مسلسل عدم تعمیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور فائر و لائف سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔