مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف 357 رنز کی مجموعی برتری، بارش کے باعث تیسرے دن کا کھیل محدود

لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف 357 رنز کی مجموعی برتری، بارش کے باعث تیسرے دن کا کھیل محدود (تصویر 1)

لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف 357 رنز کی مجموعی برتری، بارش کے باعث تیسرے دن کا کھیل محدود

لندن: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں جاری دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز بارش اور خراب روشنی کے باعث صرف 24.5 اوورز کا کھیل ہوسکا، تاہم انگلینڈ نے میچ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے دوسری اننگز میں 177 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ بنالیے اور پاکستان کے خلاف مجموعی برتری 357 رنز تک پہنچا دی۔

انگلینڈ نے دن کا آغاز 81 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے کیا۔ پاکستانی بولرز نے 96 رنز کے اضافے پر انگلینڈ کے مزید 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ محمد عباس نے شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید 3 وکٹیں حاصل کیں اور میچ میں اپنی مجموعی وکٹوں کی تعداد 7 کرلی۔ محمد علی نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں۔

انگلینڈ کی جانب سے ڈین لارنس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 66 گیندوں پر 50 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی اننگز میں 6 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ ہیری بروک نے 34، ایمیلیو گے نے 31 اور جو روٹ نے 24 رنز بنائے۔

لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف 357 رنز کی مجموعی برتری، بارش کے باعث تیسرے دن کا کھیل محدود (تصویر 2)

اس سے قبل انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 290 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 110 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی جانب سے اذان اویس 46 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ انگلینڈ کے اولی رابنسن نے 4 اور جوفرا آرچر نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کو اب میچ بچانے کے لیے انگلینڈ کی دوسری اننگز جلد ختم کرنے کے ساتھ ایک انتہائی مشکل ہدف کا تعاقب کرنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں انگلینڈ کو لارڈز ٹیسٹ جیتنے اور تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کا مضبوط موقع حاصل ہوگیا ہے۔

پہلا ٹیسٹ انگلینڈ پہلے ہی ایک اننگز اور 103 رنز سے جیت چکا ہے۔

موجودہ اسکور:

انگلینڈ: 290 آل آؤٹ، 177/7 پاکستان: 110 آل آؤٹ انگلینڈ کی مجموعی برتری: 357 رنز ڈین لارنس: 50 ناٹ آؤٹ محمد عباس: میچ میں 7 وکٹیں تیسرے دن کا کھیل: بارش اور خراب روشنی کے باعث قبل از وقت ختم۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں