مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نجکاری کمیشن اور پی پی پی اتھارٹی کا انضمام خوش آئند ہے، شاہد عمران

نجکاری کمیشن اور پی پی پی اتھارٹی کا انضمام خوش آئند ہے، شاہد عمران

نجکاری کمیشن اور پی پی پی اتھارٹی کا انضمام خوش آئند ہے، شاہد عمران

*لاہور (3D میڈیا)* فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے نجکاری کمیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی پی پی اے) کے انضمام کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے دونوں اداروں کے فرائض میں تکرار ختم کرنے اور سرکاری اثاثوں کے بہتر انتظام کے لیے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

یکم نومبر کو جاری کردہ اپنے بیان میں شاہد عمران نے کہا کہ مجوزہ انضمام سرکاری اثاثوں کے مؤثر انتظام اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری املاک کی شفاف اور مناسب قیمت مقرر کی جائے، قابلِ اعتماد سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں سے عوام کو حقیقی فوائد حاصل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی میں نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کی معاونت کے لیے چار عوامی فنڈز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ فنڈز قابلِ عمل منصوبوں کی تیاری، سرمایہ کاری کے حصول اور منصوبوں پر عمل درآمد میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

شاہد عمران نے کہا کہ مجوزہ بل میں نجی شعبے کی نمائندگی کے ساتھ آزاد ارکان پر مشتمل اکثریتی بورڈ قائم کرنے کی تجویز تجارتی اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مددگار ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے تقرریوں کا شفاف نظام، متعلقہ شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کی شمولیت، سیاسی مداخلت سے آزادی، کارکردگی کے واضح اہداف اور مؤثر احتساب یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدوں کو عوامی دستاویزات کے طور پر دستیاب بنانے کی تجویز بھی ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ طویل المدتی معاہدوں میں شفافیت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے ٹیکس دہندگان اور مستقبل کی حکومتوں پر عائد ہونے والی مالی ذمہ داریوں کی نگرانی اور احتساب کو مؤثر بنایا جا سکے گا۔

شاہد عمران نے کہا کہ ادارہ جاتی انضمام کی کامیابی کا انحصار شفافیت، بہتر انتظامی ڈھانچے اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے عوامی مفاد کے تحفظ پر ہوگا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں