وزیراعظم شہباز شریف کی ازبک صدر سے ملاقات، دوطرفہ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف کی ازبک صدر سے ملاقات، دوطرفہ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
بشکیک، 31 اگست: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے ازبکستان کے یومِ آزادی کی 35ویں سالگرہ پر صدر شوکت مرزیایوف اور برادر عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے فروری 2026 میں ازبک صدر کے دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے اور اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے پہلے اجلاس سے پاکستان اور ازبکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی تقویت ملی ہے۔
وزیراعظم نے قیادت کی سطح پر ہونے والے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے 2029 تک دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ کیا اور توسیع شدہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، کاروباری روابط میں اضافے اور باہمی مفاد پر مبنی مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر زور دیا۔
وزیراعظم نے علاقائی رابطہ کاری کو مشترکہ اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت اجاگر کی، جو وسطی اور جنوبی ایشیا کو آپس میں ملانے اور ازبکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر جلد پیش رفت اور موجودہ ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔
ملاقات میں صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے فضائی رابطوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے تاشقند اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازوں کے اجرا کی جانب پیش رفت کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی آئندہ پاکستان کی صدارت کے لیے ازبکستان کی حمایت کو سراہا اور علاقائی سلامتی، رابطہ کاری، تجارت اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں ازبکستان کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) اور دیگر کثیرالجہتی فورمز میں بھی مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور مضبوط سیاسی تعلقات کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔