مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس، 60

وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس، 60

وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس، 60.259بلین روپے مالیت کے 5 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات و ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس ہواجس میں ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 60.259بلین روپے مالیت کے پانچ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں11.714بلین روپے مالیت کے تین منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 48.545بلین روپے مالیت کے دو بڑے منصوبے مزید غور اور منظوری کے لیے نیشنل اکنامک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوانے کی سفارش کی گئی۔یہ منصوبے حکومت کے ترقیاتی اوراصلاحاتی ایجنڈے ’اڑان پاکستان‘ کا حصہ ہیں، جن کا مقصد انسانی سرمائے کو مضبوط ، بنیادی ڈھانچے اور طرز حکمرانی کو جدید بنانا اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں گلگت میں میڈیکل و نرسنگ کالج کے قیام کے نظرثانی شدہ منصوبے کی 4.924بلین روپے لاگت کی منظوری دی گئی۔ منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں میڈیکل اور نرسنگ کی تعلیم کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مقامی سطح پر تربیت یافتہ طبی افرادی قوت تیار کی جا سکے اور دیہی و پہاڑی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی بہتر ہو۔انہوں نےمنصوبہ جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ 2017 میں شروع کیا گیا تھا تاہم ناکافی فنڈز کے باعث تاخیر کا شکار رہا۔سی ڈی ڈبلیو پی نے ڈیفنس کمپلیکس اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ایف سی ایس کیمپس کے قیام کی بھی 2.753بلین روپے لاگت کی منظوری دی۔وفاقی وزیر نےمتعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قومی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ تحقیق کے لیے پلاننگ کمیشن کے ساتھ تعاون کیا جائے بالخصوص 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت اور 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے حصول کے حوالے سے تحقیق کو فروغ دیا جائے اور اس سلسلے میں مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں۔انہوں نے پلاننگ منسٹری کے عملے کو استعداد کار بڑھانے کے لیے متعلقہ تربیتی پروگراموں میں شامل کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ جامعات کو اعلیٰ معیار کی تحقیق کے ذریعے قومی مسائل کے شواہد پر مبنی حل فراہم کرنے چاہئیں۔اجلاس میں ضلع اورکزئی میں زیرا سے دبوری تک 53.4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کے منصوبے کی بھی 4.037بلین روپے لاگت کی منظوری دی گئی۔احسن اقبال نے منصوبے کی تکمیل میں سہولت کے لیے موسم سرما کے آغاز سے قبل باقی ماندہ فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ 2016 سے زیر التوا ہے اور وفاقی فنڈنگ سے تعمیر ہونے والی یہ سڑک ضلع اورکزئی میں رابطوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔سی ڈی ڈبلیو پی نے کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے 19.545بلین روپے مالیت کے نظرثانی شدہ منصوبے کو مزید غور کے لیے ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی۔ منصوبے کی مالی معاونت غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے کی جائے گی جبکہ مقامی حصہ حکومت سندھ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) سے فراہم کیا جائے گا۔منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے ہدایت کی کہ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی، شفافیت اور احتساب کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ممبر (آبادی)، ممبر (انفراسٹرکچر) اور وزارت اقتصادی امور کے نمائندے پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ غیر ملکی قرضوں سے مالی اعانت حاصل کرنے والے منصوبوں میں رقم کا بہترین استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قرض سے حاصل ہونے والے فنڈز کو مؤثر، شفاف اور صرف مقررہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے مضبوط نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔اجلاس میں بلوچستان سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ پروجیکٹس فیز تھری کے تحت میرانی ڈیم سے گوادر ٹاؤن تک پانی کی فراہمی کے منصوبے کو بھی 29 ارب روپے کی لاگت سے ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی گئی۔منصوبے کا مقصد پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر متعلقہ سہولیات کی تعمیر کے ذریعے گوادر کو پائیدار بنیادوں پر پانی فراہم کرنا ہے۔احسن اقبال نے صوبائی حکومت کو گوادر میں سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کے لیے مطالعاتی جائزہ شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں ہونا چاہیے جہاں بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج سمندر کو آلودہ کرے۔انہوں نے وقت بچانے کے لیے منصوبے کو بولی کے مرحلے میں جانے کی اجازت بھی دی تاہم واضح کیا کہ ایکنک کی منظوری تک کسی معاہدے پر دستخط یا ٹھیکہ جاری نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری منصوبہ بندی، چیف اکانومسٹ، وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ)، پلاننگ کمیشن کے اراکین، وفاقی سیکرٹریز، صوبائی محکموں کے منصوبہ بندی و ترقی کے سربراہان اور متعلقہ وفاقی وزارتوں و صوبائی حکومتوں کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں