مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دینے والا نقشہ شیئر کردیا

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دینے والا نقشہ شیئر کردیا

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دینے والا نقشہ شیئر کردیا

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا نقشہ شیئر کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔

ٹرمپ نے 18 اگست کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نقشہ پوسٹ کیا، جس میں آبنائے ہرمز کے اطراف کے علاقے کے ساتھ ’نیا امریکی علاقہ‘ کے الفاظ درج تھے۔ تاہم ٹرمپ کی پوسٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نقشہ کسی باقاعدہ امریکی حکومتی فیصلے، قانونی اقدام یا صدارتی حکم کی عکاسی کرتا ہے یا یہ محض ان کے سیاسی مؤقف اور ارادے کا اظہار ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ کے کنٹرول کی بات کر چکے ہیں۔ 12 اگست کو انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل ہے اور اشارہ دیا تھا کہ امریکہ اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

14 اگست کو ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ ان کے اس بیان پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کے زیر اختیار ہے اور اسے کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ تہران ہی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں بھی ایران سے متعلق رہی ہے، آج بھی ایران سے متعلق ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع دنیا کی اہم ترین تزویراتی آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث اس آبی گزرگاہ کی سلامتی اور جہاز رانی عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

دریں اثنا امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ ٹرمپ نے 18 اگست کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی مذاکرات طے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی جاری ہے اور آبنائے ہرمز کھلی اور فعال ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک امریکہ تہران کی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا۔

ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ ظاہر کرنے والا نقشہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت اور جہاز رانی کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں