مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کا نام ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ رکھنے کا اعلان، ایران جنگ جیتنے کا دعویٰ

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کا نام ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ رکھنے کا اعلان، ایران جنگ جیتنے کا دعویٰ

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کا نام ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ رکھنے کا اعلان، ایران جنگ جیتنے کا دعویٰ

واشنگٹن، 10 ستمبر: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کو ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ کے نام سے پکارے گا، جبکہ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکا کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ جیتنے کے بعد تیل کی قیمتیں بھی کم ہوجائیں گی۔

انادولو ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان 9 ستمبر کو ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں ریپبلکن پارٹی کے مڈٹرم کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ جیت رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو کنٹرول کررہا ہے۔

ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ ’’ہم جنگ جیت رہے ہیں، ہم آبنائے ہرمز کی تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں آبنائے ہرمز کو ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ کہا جانا چاہیے اور اس حوالے سے وہ باقاعدہ اعلان کریں گے۔

امریکی صدر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’مجھے بھی اس میں سے کچھ ملنا چاہیے‘‘ اور مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ کہا جائے گا اور انہیں یقین ہے کہ ایرانی قیادت اس نام سے بہت خوش ہوگی۔

ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ ملک ’’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘‘ ہے اور ایران گزشتہ 51 برس سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا مظاہرہ کرتا رہا ہے، تاہم اب وہ طاقتور نہیں رہا۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتیں اس وقت کم ہوں گی جب امریکا جنگ جیت لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اس وقت جاری ہے اور امریکا اسے جیت رہا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی پیش قدمی کی تو امریکا سخت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور تہران کو کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں امریکا کو سخت کارروائی کرنا پڑے۔

آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرنے سے متعلق ٹرمپ کا بیان دراصل گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ان کی تجویز کا تسلسل ہے۔ 2 ستمبر کو ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے اور اسی تناظر میں انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کا نام تبدیل کرکے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ کیوں نہ رکھا جائے۔

ایران نے اس تجویز کو پہلے ہی طنزیہ انداز میں مسترد کیا تھا۔ 3 ستمبر کو ایرانی فوج کے ترجمان نے ٹرمپ کی ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ تجویز کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج زیادہ سے زیادہ ’’فوٹوشاپ‘‘ کے ذریعے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرسکتی ہے۔ ایرانی ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث اس کی سکیورٹی اور تجارتی آمدورفت عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے، جبکہ خطے میں فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے اور آبنائے ہرمز دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کا مرکزی محاذ بن چکی ہے۔ انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے ڈیلاس میں خطاب کے دوران ایک مرتبہ پھر آبنائے پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کیا اور ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کو امریکی کامیابی قرار دیا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کے ’Trump Strait‘ کے اعلان سے مراد امریکی صدر کی جانب سے نام تبدیل کرنے کی سیاسی تجویز ہے؛ بین الاقوامی سطح پر آبنائے کا تسلیم شدہ نام بدستور ’Strait of Hormuz‘ یعنی ’آبنائے ہرمز‘ ہی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں