مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

چین میں بوڑھے افراد کی تنہائی دور کرنے کے لیے ’کرائے کی اولاد‘ کا نیا کاروبار شروع

چین میں بوڑھے افراد کی تنہائی دور کرنے کے لیے ’کرائے کی اولاد‘ کا نیا کاروبار شروع (تصویر 1)

چین میں بوڑھے افراد کی تنہائی دور کرنے کے لیے ’کرائے کی اولاد‘ کا نیا کاروبار شروع

بیجنگ: چین میں تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور کم شرح پیدائش کے باعث بزرگ افراد کی تنہائی ایک بڑا سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کو ’کرائے کے بچے‘ کے طور پر خدمات فراہم کرنے والی ایک نئی صنعت نے جنم لیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق چین میں 20 اور 30 سال کی عمر کے نوجوان بطور ’مشترکہ‘ یا ’آؤٹ سورس کیے گئے بچوں‘ کے طور پر بزرگ افراد کو وقت اور رفاقت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان طبی نگہداشت کے بجائے بزرگوں کے ساتھ وقت گزارتے، ان سے بات چیت کرتے، موبائل فون سیٹ کرنے میں مدد دیتے اور انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے جیسی خدمات انجام دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چینی سوشل میڈیا پر ایسی خدمات کے متعدد اشتہارات موجود ہیں، جہاں تین گھنٹے کی رفاقت کے لیے تقریباً 29 سے 88 ڈالر تک معاوضہ لیا جاتا ہے۔

شمالی شہر تیانجن میں ’ہیپی ہوم‘ نامی ایک اسٹارٹ اپ کے ساتھ کام کرنے والے 28 سالہ سن شو یانگ نے بتایا کہ کمپنی کے بیشتر صارفین ایسے بزرگ ہیں جو اکیلے رہتے ہیں، جبکہ ان کی اپنی اولاد روزگار کے سلسلے میں دوسرے شہروں میں مقیم ہے۔ ان بزرگوں میں تنہائی، خوف اور موت کے حوالے سے اضطراب پایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار چین میں ایک حقیقی سماجی ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق چین میں 60 سال سے زائد عمر افراد کی تعداد 2040 تک بڑھ کر 40 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 28 فیصد ہوگی۔

چین میں 1979 سے 2015 تک نافذ رہنے والی ایک بچے کی پالیسی نے بھی آبادی کے عمرانی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ قومی عمر رسیدہ افراد کمیٹی کے مطابق 2021 تک نصف سے زیادہ بزرگ ’خالی گھروں‘ میں رہ رہے تھے، جہاں ان کے بالغ بچے ان کے ساتھ نہیں رہتے۔

ماہرین کے مطابق 2030 تک چین کو بزرگوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں تقریباً 55 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایک چینی ماہر معاشیات کے مطابق 2031 تک ملک ’انتہائی عمر رسیدہ معاشرے‘ میں داخل ہو جائے گا، جہاں 65 سال سے زائد عمر افراد آبادی کا کم از کم 20 فیصد ہوں گے۔

چین میں بوڑھے افراد کی تنہائی دور کرنے کے لیے ’کرائے کی اولاد‘ کا نیا کاروبار شروع (تصویر 2)

چینی حکومت بھی اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ رواں سال حکام نے باہمی معاونت پر مبنی بزرگوں کی نگہداشت کی خدمات کو 2030 تک ملک کے 70 فیصد علاقوں تک پھیلانے کی تجویز دی ہے۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے روبوٹس تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں جو بزرگوں کو مساج فراہم کرنے سے لے کر ان کے ساتھ شطرنج کھیلنے تک مختلف کام انجام دے سکیں۔

تاہم ان منصوبوں کو مکمل ہونے میں وقت لگے گا، اس لیے فی الحال بزرگوں کی دیکھ بھال کا بڑا بوجھ اس ’سینڈوچ نسل‘ پر ہے جو ایک طرف اپنے بچوں کی پرورش اور دوسری جانب اپنے عمر رسیدہ والدین کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔

سوزو شہر میں ’ٹائم بینک‘ نامی ادارہ چلانے والے لیو چینگ نے بزرگوں کے لیے ’مشترکہ بچوں‘ کی خدمات شروع کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے بالغ بچے اپنے والدین کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں لیکن روزگار اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داریوں کے باعث ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔

تاہم اس نئے کاروباری ماڈل پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق غیر متعلقہ افراد کو بزرگوں کے گھروں میں داخل ہونے سے اہم دستاویزات، شناختی کاغذات، جائیداد اور مالی اثاثوں سے متعلق معلومات تک رسائی مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر فراہم کنندگان طبی تربیت نہیں رکھتے اور ہنگامی صورتحال میں مناسب مدد فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

’ٹائم بینک‘ اور ’ہیپی ہوم‘ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی جانچ اور تربیت کرتے ہیں۔ ’ٹائم بینک‘ بعض صورتوں میں بزرگوں اور معاون کارکنوں کی جنس کے مطابق جوڑی بنانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ باہمی رضامندی سے ملاقاتوں کے دوران باڈی کیمروں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے تاکہ کسی تنازع کی صورت میں ریکارڈ موجود ہو۔

چین میں جہاں والدین کی خدمت اور فرمانبرداری کو روایتی طور پر انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، وہاں بعض افراد یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا والدین کی جذباتی نگہداشت کو پیسوں کے عوض کسی اور کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔

تاہم سوزو کی ایک 36 سالہ خاتون، جو اپنے والدین سے ملنے کے لیے ’ٹائم بینک‘ کے معاونین کی خدمات حاصل کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے والدین کی مستقل دیکھ بھال کے لیے آمدنی کمانا ضروری ہو تو معاوضے کے عوض کسی دوسرے شخص کی رفاقت فراہم کرنا قابل اعتراض نہیں۔ ان کے مطابق اس طرح ان کے والدین کی تنہائی کم ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاوضے پر بزرگوں کو رفاقت فراہم کرنے والی خدمات حقیقی ضرورت پوری کر سکتی ہیں، تاہم انہیں خاندان کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت واضح حفاظتی اور پیشہ ورانہ معیار مقرر کرے تاکہ تجارتی اور رضاکارانہ خدمات باقاعدہ بزرگوں کی نگہداشت کے نظام کی معاون بن سکیں، اس کا متبادل نہیں۔

’ٹائم بینک‘ کے بانی لیو چینگ کے مطابق ان کا ادارہ اس وقت تقریباً 100 ماہانہ آرڈرز سے اپنی خدمات کو بڑھا کر 650 آرڈرز ماہانہ تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ ایسا نظام دیکھنا چاہتے ہیں جہاں بزرگوں کے لیے گھر پر نگہداشت اور رفاقت حاصل کرنا اتنا ہی آسان ہو جتنا کھانے کا آرڈر دینا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں