چین میں 78 ارب درخت لگادیے گئے، جنگلات کا رقبہ 25 فیصد تک پہنچ گیا

چین میں 78 ارب درخت لگادیے گئے، جنگلات کا رقبہ 25 فیصد تک پہنچ گیا
بیجنگ: چین نے ماحولیاتی تحفظ، صحرائی پھیلاؤ روکنے اور زمین کے کٹاؤ سے نمٹنے کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر شجرکاری کی ہے اور 2024 تک ملک میں تقریباً 78 ارب درخت لگائے جاچکے ہیں۔
پاپولر مکینکس کی رپورٹ کے مطابق چین نے 1978 میں بڑے پیمانے پر درخت لگانے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کا مقصد صحراؤں کے پھیلاؤ کو روکنے، مٹی کے کٹاؤ پر قابو پانے اور گردوغبار کے طوفانوں کی شدت کم کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق چین میں شجرکاری کی وسیع مہم کے نتیجے میں ملک کے جنگلات کا مجموعی رقبہ بھی کئی دہائیوں میں نمایاں طور پر بڑھا۔ 1949 میں چین کے تقریباً 10 فیصد رقبے پر جنگلات موجود تھے، جو 2024 تک بڑھ کر تقریباً 25 فیصد ہوگئے۔
چین کی بڑے پیمانے پر شجرکاری کو دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت نے مختلف ادوار میں جنگلات کی بحالی، بنجر زمینوں کو سرسبز بنانے اور صحرائی علاقوں میں سبز پٹیوں کے قیام کے لیے بڑے منصوبے شروع کیے۔
پاپولر مکینکس کے مطابق ماحولیاتی فوائد کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر شجرکاری نے بعض علاقوں کے قدرتی آبی چکر کو بھی متاثر کیا ہے۔ محققین کے مطابق زیادہ درخت پانی کے بخارات بننے کے عمل میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے باعث بعض خشک علاقوں میں دستیاب پانی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر شجرکاری ماحولیاتی بہتری، زمین کے تحفظ اور صحرائی پھیلاؤ روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، تاہم مستقبل کے منصوبوں میں مقامی موسمی حالات اور پانی کی دستیابی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔