چین نے عالمی چِپ انڈسٹری میں قائدانہ پوزیشن حاصل کرلی

چین نے عالمی چِپ انڈسٹری میں قائدانہ پوزیشن حاصل کرلی
بیجنگ: چین نے عالمی چِپ انڈسٹری میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے ہوئے انٹیگریٹڈ سرکٹ ڈیزائن کے تحفظ سے متعلق قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جنہیں مستقبل کی چِپ ٹیکنالوجی میں چینی قیادت مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی ریاستی کونسل نے انٹیگریٹڈ سرکٹ لے آؤٹ ڈیزائن کے تحفظ سے متعلق ضوابط میں 2001 کے بعد پہلی مرتبہ جامع ترامیم کی ہیں۔ نئی قانون سازی میں انٹیگریٹڈ سرکٹ کی تعریف سے ’’سیمی کنڈکٹر‘‘ کی اصطلاح حذف کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں قانونی تحفظ کا دائرہ روایتی سیمی کنڈکٹر چِپس کے ساتھ ساتھ فوٹونک اور کوانٹم چِپس تک بھی وسیع ہوجائے گا۔
رپورٹ کے مطابق نئے ضوابط کو ریاستی کونسل کے 10 جولائی 2026 کو ہونے والے 91ویں ایگزیکٹو اجلاس میں منظور کیا گیا، جبکہ 23 جولائی کو ڈگری نمبر 842 کے تحت جاری کیا گیا۔ نئے قوانین کا اطلاق 15 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
ماہرین کے مطابق قوانین میں تبدیلی چین کی جانب سے صرف موجودہ چِپ صنعت کو تحفظ دینے کے بجائے مستقبل کی ٹیکنالوجیز، خصوصاً فوٹونک اور کوانٹم کمپیوٹنگ، کے لیے بھی مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
چین پہلے ہی چِپ ڈیزائن کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کرچکا ہے۔ علی بابا، ہواوے، کیمبرکون اور لونگ سن سمیت متعدد چینی کمپنیاں جدید چِپ ڈیزائن تیار کر رہی ہیں جو بعض شعبوں میں امریکی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
نئے ضوابط میں چِپ ڈیزائن کی دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ خلاف ورزیوں پر سخت اقدامات، نقصانات کی تلافی کے بہتر طریقہ کار اور بعض حالات میں تیسرے فریق کو رجسٹریشن منسوخ کرنے کی درخواست دینے کا اختیار بھی شامل کیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق قانون میں تبدیلی کو چین کی تمام شعبوں میں موجودہ تکنیکی برتری کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چین کی چِپ صنعت کے لیے قانونی تحفظ مضبوط بنانا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اس کی مسابقتی پوزیشن بہتر کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین اور امریکا کے درمیان مصنوعی ذہانت، جدید سیمی کنڈکٹرز اور چِپ ٹیکنالوجی میں عالمی برتری کے حصول کے لیے مسابقت جاری ہے۔