مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ہیگ ثالثی عدالت کا فیصلہ، سندھ طاس معاہدہ برقرار، بھارت کو پن بجلی منصوبے پر کام روکنے کا حکم

ہیگ ثالثی عدالت کا فیصلہ، سندھ طاس معاہدہ برقرار، بھارت کو پن بجلی منصوبے پر کام روکنے کا حکم

ہیگ ثالثی عدالت کا فیصلہ، سندھ طاس معاہدہ برقرار، بھارت کو پن بجلی منصوبے پر کام روکنے کا حکم

اسلام آباد، 31 اگست: پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے سے متعلق تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے متفقہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذالعمل اور دونوں ممالک کے لیے پابند ہے، جبکہ بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کرسکتا۔

عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’’التوا میں رکھنے‘‘ کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت دونوں فریق اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کے پابند ہیں۔ فیصلے میں بھارت کے مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق معاہدے کی شرائط کی بھی توثیق کی گئی ہے۔

رتلے ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی فیصلے کے اہم نکات میں شامل ہے۔ عدالت نے پاکستان کی درخواست پر عبوری اقدامات کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر زیر تعمیر رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے بعض حصوں پر تعمیراتی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی متعلقہ شرائط کے مطابق ہو۔

عدالتی کارروائی میں دریائے جہلم پر قائم کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ بھی زیر غور آیا۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن کو سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ اصولوں اور حدود کے مطابق ہونا چاہیے۔

ثالثی عدالت نے اس بنیادی قانونی اصول کی بھی توثیق کی کہ کوئی ریاست محض اپنی خودمختاری یا کسی یکطرفہ فیصلے کی بنیاد پر کسی پابند بین الاقوامی معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کرسکتی۔ اس طرح عدالت نے بھارت کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا کہ موجودہ حالات اسے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی معاونت سے طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کو مغربی دریا قرار دیا گیا، جن کے پانیوں کے حوالے سے پاکستان کے حقوق کو خصوصی تحفظ حاصل ہے، جبکہ بھارت کو مخصوص شرائط کے تحت پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے اور پانی کے محدود استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

دوسری جانب بھارت نے ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق عدالت کو بھارت پر اس نوعیت کے احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں، اس لیے نئی دہلی اس کارروائی کو تسلیم نہیں کرتا۔

بھارت نے اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو ’’التوا میں رکھنے‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو یکطرفہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسلسل مؤقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی پابند معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ فیصلے نے پاکستان کے اس مستقل مؤقف کی تائید کی ہے کہ کسی بھی پابند بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پر لازم ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے اور معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے تحت آنے والے پابند فیصلوں پر عمل کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ قانونی و سفارتی ذرائع بروئے کار لاتا رہے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ثالثی عدالت کے فیصلے سے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے، تاہم بھارت کی جانب سے عدالت کے دائرہ اختیار اور فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کے باعث اس معاملے میں قانونی اور سفارتی پیچیدگیاں بدستور موجود رہیں گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں