مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اسلام آباد: جماعت اسلامی شعبہ خواتین کا مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج

اسلام آباد: جماعت اسلامی شعبہ خواتین کا مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج (تصویر 1)

اسلام آباد: جماعت اسلامی شعبہ خواتین کا مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج

اسلام آباد: حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد کے زیر اہتمام مہنگائی، پٹرولیم لیوی، بجلی و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور لوڈشیڈنگ کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلا، طالبات، گھریلو خواتین، سماجی کارکنان، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچوں نے شرکت کرتے ہوئے حکومت سے عوام کو فوری معاشی ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے نائب قیمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان اور سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ سید، نائب قیمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان عفت سجاد اور ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد قدسیہ ناموس نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مہنگائی، پٹرولیم لیوی، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے نرخ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

اسلام آباد: جماعت اسلامی شعبہ خواتین کا مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج (تصویر 2)

عائشہ سید نے کہا کہ حکومت اپنے اختیار میں موجود پٹرولیم لیوی اور دیگر مالی بوجھ میں کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کے جان و مال اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جبکہ موجودہ معاشی بحران کا سارا بوجھ کمزور اور متوسط طبقے پر ڈالنا مناسب نہیں۔

عفت سجاد نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسوں، لیویز اور مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر مزدور، تنخواہ دار اور محدود آمدنی والے خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی و گیس کے نرخ کم کیے جائیں، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور عوام دوست معاشی اصلاحات نافذ کی جائیں۔

قدسیہ ناموس نے کہا کہ خواتین اپنے گھروں اور بچوں کے معاشی مستقبل کے تحفظ کے لیے میدان میں نکلی ہیں کیونکہ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور خواتین عوامی معاشی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی اور عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے والے محصولات پر نظرثانی کی جائے، بجلی و گیس کے نرخوں میں کمی لائی جائے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شفاف، دیرپا اور عوام دوست معاشی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ احتجاج کے اختتام پر شرکا نے عوامی معاشی حقوق کے تحفظ اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں