مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

فارن میڈیکل گریجویٹس کا نوٹیفکیشنز واپس لینے کا مطالبہ، نئی پالیسی صرف مستقبل کے طلبہ پر نافذ کی جائے

فارن میڈیکل گریجویٹس کا نوٹیفکیشنز واپس لینے کا مطالبہ، نئی پالیسی صرف مستقبل کے طلبہ پر نافذ کی جائے

فارن میڈیکل گریجویٹس کا نوٹیفکیشنز واپس لینے کا مطالبہ، نئی پالیسی صرف مستقبل کے طلبہ پر نافذ کی جائے

اسلام آباد: فارن میڈیکل گریجویٹس (FMGs) کے صدر ڈاکٹر وقاص اکبر نے حکومت پاکستان، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)، پارلیمنٹ اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ 8 ستمبر 2025 اور 31 جولائی 2026 کے نوٹیفکیشنز فوری طور پر واپس لیے جائیں اور نئی پالیسی کا اطلاق صرف مستقبل میں داخلہ لینے والے طلبہ پر کیا جائے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں عبدالرحیم ایڈووکیٹ، ڈاکٹر عدنان اورکزئی، ڈاکٹر آصف اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وقاص اکبر نے کہا کہ متعلقہ نوٹیفکیشنز سے قبل داخلہ لینے یا گریجویشن مکمل کرنے والے تمام طلبہ کو سابقہ قواعد کے مطابق پروویژنل رجسٹریشن، نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (NRE) میں شرکت اور مستقل رجسٹریشن کا حق دیا جائے، جبکہ متاثرہ طلبہ کو مناسب عبوری مدت (Transition Period) بھی فراہم کی جائے تاکہ ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ مستقبل متاثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام طلبہ نے ان میڈیکل جامعات سے تعلیم حاصل کی جنہیں ان کے داخلے اور گریجویشن کے وقت پی ایم ڈی سی تسلیم کرتا تھا، تاہم بعد میں جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے ذریعے نئی شرائط متعارف کرا کر انہیں ماضی سے نافذ کیا گیا، جس سے ہزاروں فارن میڈیکل گریجویٹس کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا۔

ڈاکٹر وقاص اکبر نے بتایا کہ متاثرہ طلبہ نے اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے 2 اپریل 2026 کو ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی پالیسی مرتب کرتے وقت عدالتی فیصلے، آئین پاکستان اور قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقل اور منصفانہ نظام وضع کیا جائے۔

اس موقع پر ڈاکٹر عدنان اورکزئی نے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ فارن میڈیکل گریجویٹس کو بلاامتیاز نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (NRE) میں شرکت کی اجازت دی جائے اور ان کی رجسٹریشن کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر انہی جامعات کے فارغ التحصیل ڈاکٹر آسٹریلین میڈیکل کونسل (AMC)، ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ECFMG)، میڈیکل کونسل آف کینیڈا (MCC)، جنرل میڈیکل کونسل (GMC) اور ورلڈ ڈائریکٹری آف میڈیکل سکولز (WDOMS) جیسے عالمی اداروں کے تقاضے پورے کرکے بین الاقوامی امتحانات اور لائسنسنگ کے عمل میں حصہ لینے کے اہل ہیں تو پھر پاکستان میں انہیں این آر ای میں شرکت سے محروم رکھنا امتیازی اور غیر منصفانہ اقدام ہے۔

پریس کانفرنس کے شرکا نے صدر پاکستان، وزیراعظم، وفاقی وزیر صحت، پارلیمنٹ، پی ایم ڈی سی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ ہزاروں متاثرہ فارن میڈیکل گریجویٹس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری مداخلت کریں اور اس دیرینہ مسئلے کا آئین و قانون کے مطابق مستقل اور منصفانہ حل یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر، انصاف سے محرومی کے مترادف ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں