مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

مچھلی اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی سکیم متعارف کرانے پر غور

مچھلی اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی سکیم متعارف کرانے پر غور

مچھلی اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی سکیم متعارف کرانے پر غور

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں مچھلی اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے کارکردگی سے مشروط برآمدی مراعاتی سکیم متعارف کرانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ مجوزہ سکیم کا مقصد موجودہ ٹیکس نظام برقرار رکھتے ہوئے برآمدات، سرمایہ کاری اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت کو فروغ دینا ہے۔

وزارت بحری امور کے مطابق وفاقی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ پرفارمنس بیسڈ انکریمنٹل ایکسپورٹ انسینٹو سکیم کے تحت برآمد کنندگان کو اضافی برآمدات پر مراعات دی جائیں گی، جبکہ موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے یہ موزوں وقت ہے۔ مؤثر مراعات اور برآمد کنندگان سے قریبی رابطہ سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور قومی معیشت میں اس شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنانے میں اہم ثابت ہوگا۔

اجلاس میں مجوزہ سکیم کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے فشریز ڈویلپمنٹ کمشنر ڈاکٹر محمد حفیظ الرحمٰن کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی قائم کی گئی۔ کمیٹی میں کورنگی فش ہاربر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شاہد، میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان اور اسسٹنٹ کمشنر فشریز محمد فرحان خان شامل ہیں۔ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات وفاقی وزیر کو پیش کرے گی۔

اجلاس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے فش ایکسپورٹرز کے لیے قومی ایوارڈز کی تجاویز تیار کرنے اور صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سکیم کا حتمی فریم ورک مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان نے کہا کہ ہدفی مراعات اور برآمد کنندگان کے ساتھ مؤثر رابطہ عالمی منڈی میں پاکستان کی سمندری غذائی صنعت کی مسابقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات 568 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم علاقائی حریف ممالک اس شعبے میں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کا شعبہ برآمدی آمدن اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے اور حکومت برآمدات میں اضافے، معیار کی بہتری اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں