مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پی ٹی اے نے ای سم کی فیس اور منتقلی کے نئے قواعد متعارف کرا دیے

پی ٹی اے نے ای سم کی فیس اور منتقلی کے نئے قواعد متعارف کرا دیے

پی ٹی اے نے ای سم کی فیس اور منتقلی کے نئے قواعد متعارف کرا دیے

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ای سم سے متعلق نئے قواعد متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ای سم جاری کرنے کی زیادہ سے زیادہ فیس 1500 روپے جبکہ ایک مطابقت رکھنے والی ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں ای سم کی 10 مرتبہ منتقلی مفت ہوگی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق پی ٹی اے نے سیلولر موبائل آپریٹرز سے مشاورت کے بعد ای سم سروس کے چارجز پر نظرثانی کی ہے اور نئے قواعد اگست کے وسط تک نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق موجودہ نظام میں صارفین ای سم ایک موبائل فون سے دوسرے فون میں منتقل کرسکتے ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے عموماً کسٹمر سروس سینٹر سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ نئے نظام کے تحت اس عمل کو مزید آسان اور ڈیجیٹل بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نئے طریقہ کار کے تحت صارفین کو مطابقت رکھنے والی ڈیوائس میں ای سم منتقل کرنے کے لیے بار بار کسٹمر سروس سینٹر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، جبکہ ای سم کی منتقلی کے لیے محفوظ ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

پی ٹی اے نے بتایا کہ یہ نظام پارلیمانی کمیٹی کی ہدایت پر تیار کیا جارہا ہے، جس کا مقصد صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ای سم منتقلی کے عمل میں سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی اے نے نادرا اور موبائل فون آپریٹرز کے تعاون سے سم کے اجرا اور ملکیت کی تصدیق کے لیے ملٹی فیکٹر تصدیقی نظام متعارف کرانے پر بھی کام شروع کردیا ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سم جاری کرنے کی سہولت متعارف کرانے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارفین گھر بیٹھے اپنی شناخت کی تصدیق کرسکیں گے اور روایتی بائیومیٹرک تصدیق کی ضرورت کم ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ موبائل آپریٹرز کی ایپس کے ذریعے سیلف سروس بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کے ذریعے صارفین نادرا کے ڈیٹا بیس سے اپنی شناخت کی تصدیق کراسکیں گے۔

پی ٹی اے کے مطابق نئے تصدیقی نظام میں چہرے اور آنکھ کی پتلی کی شناخت سمیت جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی بزرگ شہریوں، معذور افراد اور روایتی بائیومیٹرک تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے متبادل سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں