پاک، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ اور علاقائی امن کے لیے اہم پیش رفت ہے، بزنس کمیونٹی

پاک، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ اور علاقائی امن کے لیے اہم پیش رفت ہے، بزنس کمیونٹی
لاہور، 8 اگست: کاروباری برادری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا کو واضح اور مضبوط پیغام دے گا کہ مسلم امہ جارحیت، عدم استحکام اور علاقائی امن کو لاحق خطرات کے خلاف متحد ہے۔ ہفتہ کو یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر زاہد اقبال چوہدری، ایف پی سی سی آئی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران اور وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک مفاہمت اجتماعی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے، دفاعی تعاون بڑھانے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے مشترکہ عزم کا بھی عکاس ہے۔ بزنس لیڈرز نے امید ظاہر کی کہ دفاعی معاہدہ اقتصادی، سفارتی، تکنیکی اور دفاعی شعبوں میں وسیع تر تعاون کی راہ ہموار کرے گا، جس سے مسلم دنیا میں باہمی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری محض دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ امن، استحکام، باہمی احترام اور علاقائی سلامتی کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ نظام کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور نئے سکیورٹی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی مشاورت اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا قریبی تعاون خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی روابط کو مزید مستحکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔