ٹیکسوں کی بھرمار، پٹرول اصل قیمت سے 139 روپے، ڈیزل 116 روپے مہنگا

ٹیکسوں کی بھرمار، پٹرول اصل قیمت سے 139 روپے، ڈیزل 116 روپے مہنگا
اسلام آباد: پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز کے باعث نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، شہریوں کو پٹرول کی بنیادی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 140 روپے اور ڈیزل پر 116 روپے سے زائد اضافی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایک لیٹر پٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے ہے، جبکہ اس کی موجودہ قیمت 327 روپے 62 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔ بنیادی قیمت اور صارفین کے لیے مقررہ قیمت میں 129 روپے 93 پیسے کا فرق ہے۔
دستاویزات کے مطابق پٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 48 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ اس کی مقررہ قیمت 380 روپے 86 پیسے ہے۔ یوں بنیادی لاگت اور صارفین کی ادا کردہ قیمت میں 116 روپے 10 پیسے کا فرق ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 74 روپے 28 پیسے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں میں بنیادی لاگت کے علاوہ سرکاری لیویز، کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ مارجن اور آئل مارکیٹنگ و ڈیلرز کے مارجنز کا نمایاں حصہ شامل ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو پٹرولیم مصنوعات کی بنیادی قیمت سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔