وفاقی وزیر مکانات و تعمیرات کی گرین انکلیو منصوبوں میں تاخیر پر برہمی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے مکانات و تعمیرات میاں ریاض حسین پیرزادہ نے FGEHA کے 50ویں ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گرین انکلیو-I اور لائف اسٹائل ریزیڈنسی منصوبوں کی تکمیل میں طویل تاخیر پر شدید تشویش و برہمی کا اظہار کیا اور اتھارٹی کو مسائل کے حل اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر نے منصوبوں میں غیر معمولی تاخیر پر FGEHA حکام سے سخت استفسار کیا اور پیش رفت میں کمی کی وجوہات کے بارے میں تفصیلی وضاحت طلب کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں متعدد مرتبہ پارلیمانی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سمیت دیگر مختلف فورمز پر ان منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے جواب دینا پڑا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود منصوبوں نے مطلوبہ پیش رفت حاصل نہیں کی ہے۔ یہ صورتحال ٹھیک ویسی ہی ہے جیسے ملک کے دیگر ترقیاتی امور میں بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر ناکام ہوں گے، صدر کے عزم کی روشنی میں انتظامی شفافیت کی ضرورت ہے۔ گرین انکلیو-I کے الاٹیز کے احتجاج اور وفاقی محتسب سے رجوع کرنے سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے زور دیا کہ الاٹیز کے تحفظات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اتھارٹی مسائل کے حل کے لیے شفافیت، جوابدہی اور مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ تمام زیرِ التوا انکوائری رپورٹس مقررہ مدت کے اندر پیش کی جائیں اور ان کے نتائج اور سفارشات کی روشنی میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انکوائریوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور سینئر بیوروکریٹس سے لے کر نچلے گریڈ کے اہلکاروں بے یقینی کا شکار ہیں جنہوں نے اپنے گھر کے حصول کی امید میں اپنی محنت کی کمائی ان منصوبوں میں لگائی ہے، لیکن وہ تاحال ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے بلاجواز انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے FGEHA بورڈ کو مزید ہدایت کی کہ انکوائری رپورٹس کے نتائج اور سفارشات کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے اور اس پورے عمل کو منصفانہ، شفاف، جواز پر مبنی اور یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے دوران FGEHA کے ایگزیکٹو بورڈ نے اتھارٹی کے مالی سال 2026-27 کے سالانہ بجٹ پر بھی غور کیا اور اسے منظور کر لیا۔ حکومت کا یہ اقدام دیگر اداروں کی طرح نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایس سی او اجلاس کا انعقاد جیسی اہم حکومتی سرگرمیوں کی طرح احتساب اور کارکردگی کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اسی طرح چیئرمین سینیٹ کا پاکستان اور پرتگال کے درمیان تعلقات بڑھانے پر زور بھی ملکی انتظامی امور کو بہتر بنانے کی ایک کڑی ہے۔