عمران خان کی اسپتال منتقلی: حکومتی نظرثانی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

عمران خان کی اسپتال منتقلی: حکومتی نظرثانی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے حکم کے تحت بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرثانی درخواست رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرکے واپس کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق نظرثانی درخواست کے ساتھ لازمی دستاویزات اور پیپر بکس مکمل نہ ہونے پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا، جس کے بعد درخواست ابتدائی مرحلے میں ہی واپس کردی گئی۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کیے جانے کو سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کی نظرثانی درخواست کے میرٹ پر مسترد کیے جانے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست ابھی کسی تین رکنی بینچ کے سامنے باقاعدہ سماعت کے لیے پیش نہیں ہوئی۔
بیک گراؤنڈر
سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کی صحت سے متعلق درخواست پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے انہیں اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان کے ذاتی معالج کو بھی طبی عمل میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا تھا۔ عدالت نے ان کے اہل خانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے سے متعلق بھی ہدایات جاری کی تھیں۔
وفاقی حکومت نے 19 اگست کو سپریم کورٹ کے اس حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔
حکومت نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 18 اگست کا عدالتی حکم قانونی اور آئینی بنیادوں پر نظرثانی کا متقاضی ہے، جبکہ عدالت کا حکم دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے جاری ہوا اور متعلقہ فریقین، بالخصوص چیف کمشنر اسلام آباد، کو مناسب نوٹس دیے بغیر عبوری مرحلے پر حتمی نوعیت کا ریلیف فراہم کیا گیا۔
نظرثانی درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کے لیے قانونی طریقہ کار موجود ہے، جسے عدالتی حکم میں مدنظر نہیں رکھا گیا۔
حکومت نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ عمران خان کا جیل میں باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جاتا رہا ہے اور متعدد مرتبہ میڈیکل بورڈز نے ان کا معائنہ کیا، اس لیے ہسپتال منتقلی کے معاملے میں طبی ماہرین کی رائے کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
تازہ پیش رفت کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے حکومتی نظرثانی درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کردیا ہے۔ تاہم رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست واپس کیے جانے کو سپریم کورٹ کی جانب سے نظرثانی درخواست کے میرٹ پر فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔