یوکرین جنگ کے باعث ہماری سیاحت متاثر ہوئی، 7 یورپی ممالک نے یورپی یونین سے 2 ٹریلین یورو مانگ لیے

یوکرین جنگ کے باعث ہماری سیاحت متاثر ہوئی، 7 یورپی ممالک نے یورپی یونین سے 2 ٹریلین یورو مانگ لیے
برسلز: یوکرین جنگ اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے باعث سیاحتی شعبے کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے یورپی یونین کے 7 رکن ممالک نے آئندہ 2 ٹریلین یورو کے مجوزہ بجٹ میں اپنے سرحدی علاقوں کے لیے خصوصی فنڈنگ کا مطالبہ کردیا۔
یورونیو ز کے مطابق بلغاریہ، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، رومانیہ اور سلوواکیہ نے یورپی کمیشن کے متعلقہ کمشنرز کو خط لکھا ہے، جس میں روس، بیلاروس اور یوکرین سے متصل یا قریبی علاقوں میں سیاحت کو لاحق مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے باعث ان علاقوں میں سیاحوں کی آمد متاثر ہوئی ہے، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی سرمایہ کاری میں کمی اور کاروباری غیر یقینی صورتحال سے مشکلات کا شکار ہیں۔
لٹویا کی وزارت اقتصادیات کے پارلیمانی سیکریٹری کے مطابق روسی اور بعض اوقات یوکرینی ڈرونز کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں سے بھی سیاحوں میں بے یقینی اور خوف پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہوٹلوں کی بکنگ اور مختلف تقریبات منسوخ ہونے سے کاروباری آمدنی متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لٹویا کے مشرقی علاقے لاتگالے میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے سے وابستہ 94 کاروباری اداروں کے سروے میں 72 فیصد نے جون 2026 کے دوران گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں آمدنی اور سیاحوں کی تعداد میں کمی کی اطلاع دی، جبکہ تقریباً 20 فیصد کاروباری اداروں کی آمدنی میں کم از کم 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ساتوں ممالک نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ طویل مدتی مالیاتی فریم ورک میں سرحدی علاقوں کے سیاحتی شعبے کے لیے مناسب فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ ہوٹلوں، کاروباری اداروں اور ٹور آپریٹرز کو درپیش مشکلات کم کی جاسکیں۔
یورپی کمیشن نے ساتوں ممالک کا خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا۔ برسلز آئندہ یورپی سیاحتی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے سرحدی علاقوں کو درپیش سیکیورٹی اور معاشی مسائل کو بھی مدنظر رکھے گا۔