مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

چینی کمپنی نے گاڑیوں کے لیے شمسی چھت کی کمرشل پیداوار کی صلاحیت حاصل کرلی

چینی کمپنی نے گاڑیوں کے لیے شمسی چھت کی کمرشل پیداوار کی صلاحیت حاصل کرلی

چینی کمپنی نے گاڑیوں کے لیے شمسی چھت کی کمرشل پیداوار کی صلاحیت حاصل کرلی

بیجنگ: چین کی معروف گاڑیوں کے شیشے بنانے والی کمپنی فویاو گلاس نے شمسی خلیوں کو گاڑیوں کی چھت کے تہہ دار شیشے میں ضم کرکے بجلی پیدا کرنے والی شمسی چھت کی بڑے پیمانے پر تیاری کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے گاڑی کی چھت سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرسکے گی۔

پی وی میگزین کی 19 اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق فویاو گلاس نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی شمسی چھت کے شیشے کی بڑے پیمانے پر پیداوار کرسکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں شمسی خلیوں کو عام شمسی پینل کی طرح گاڑی کی چھت پر الگ سے نصب کرنے کے بجائے تہہ دار شیشے کی مختلف پرتوں کے درمیان ضم کیا جاتا ہے۔

کمپنی کے مطابق شمسی چھت سے پیدا ہونے والی بجلی گاڑی کے معاون برقی نظام اور دیگر برقی آلات کو توانائی فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد گاڑی کو مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلانا نہیں بلکہ اضافی بجلی پیدا کرکے گاڑی کے برقی نظام پر بوجھ کم کرنا ہے۔

فویاو گلاس کے لیے یہ ٹیکنالوجی مستقبل کا محض منصوبہ نہیں بلکہ کمپنی پہلے ہی اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے۔ کمپنی نے مئی 2024 میں سرمایہ کاروں کو بتایا تھا کہ وہ شمسی چھت کے شیشے کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے اور صارفین کی ضروریات کے مطابق بعض گاڑیوں کے منصوبوں کے لیے اس کی فراہمی بھی کررہی ہے۔

حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی گاڑیوں میں شمسی توانائی کے استعمال کو مزید وسعت دینے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ فویاو گلاس گاڑیوں کے لیے شمسی توانائی سے متعلق شیشے اور وسیع شیشے والی چھت سمیت مختلف جدید ٹیکنالوجیز پر کام کررہی ہے۔

گاڑیوں میں شمسی ٹیکنالوجی کا استعمال بالخصوص برقی اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی گاڑی کے معاون نظام چلانے، بیٹری پر اضافی بوجھ کم کرنے اور بعض حالات میں مجموعی توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم گاڑی کی چھت کا محدود رقبہ شمسی بجلی کی پیداوار کو بھی محدود کرتا ہے، اس لیے شمسی چھت روایتی برقی چارجنگ نظام کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اس سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار گاڑی کے ڈیزائن، چھت کے رقبے، شمسی خلیوں کی کارکردگی، دھوپ کی شدت اور موسمی حالات پر منحصر ہوگی۔

فویاو گلاس کی جانب سے شمسی چھت کے شیشے کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت حاصل کرنا اس لحاظ سے اہم پیش رفت ہے کہ گاڑیوں میں شمسی توانائی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی اب صرف تجرباتی مرحلے تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی اور تجارتی استعمال کی جانب بڑھ رہی ہے۔

تاہم کمپنی نے اپنی موجودہ شمسی چھت کی پیداواری صلاحیت کا مجموعی حجم یا مستقبل میں پیداوار میں مزید اضافے کے لیے کوئی مخصوص تاریخ ظاہر نہیں کی۔ موجودہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کی گاڑیوں میں شیشہ صرف حفاظت، روشنی اور ظاہری خوبصورتی کے لیے استعمال نہیں ہوگا بلکہ توانائی پیدا کرنے والے نظام کے طور پر بھی اہم کردار ادا کرسکے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں