راولپنڈی میں فوج تعینات، محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست پر وفاقی حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا

راولپنڈی میں فوج تعینات، محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست پر وفاقی حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست پر راولپنڈی میں پاک فوج کی تین کمپنیوں کو 6 ماہ کے لیے حساس سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کا وزارت داخلہ کی جانب سے 21 اگست 2026 کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کی گئی درخواست پر وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج کی تین کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے اور کسی غیر متوقع صورتحال کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق مؤثر انداز میں کارروائی کی جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی فوری طور پر مؤثر ہوگی اور اس کی مدت 6 ماہ مقرر کی گئی ہے۔ پاک فوج ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حساس سکیورٹی فرائض انجام دے گی اور امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت کرے گی۔
ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ سے رجوع کیا تھا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے 22 جولائی 2026 کے خط کے ذریعے فوج کی تعیناتی کی درخواست کی تھی، جس کے بعد وفاقی حکومت نے منظوری دی۔
رپورٹس کے مطابق فوجی دستے حساس مقامات اور اہم شاہراہوں کی سکیورٹی کے لیے ضلعی انتظامیہ کی معاونت کریں گے اور کسی بھی ناخوشگوار یا غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کریں گے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں تین کمپنیوں کی مجموعی نفری 400 سے زائد اہلکار بھی بیان کی گئی ہے، تاہم بنیادی سرکاری حکم میں واضح طور پر تین کمپنیوں کی تعیناتی کا ذکر ہے۔
آئین کا آرٹیکل 245 مسلح افواج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے طلب کرنے سے متعلق ہے۔ موجودہ فیصلے کے تحت پاک فوج ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرے گی، جبکہ انتظامی و قانونی امور کی ذمہ داری سول انتظامیہ کے پاس ہی رہے گی۔
راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شہر میں سکیورٹی انتظامات پہلے ہی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز سمیت اہم فوجی تنصیبات موجود ہیں، تاہم وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں فوج کی تعیناتی کی کسی مخصوص حالیہ سکیورٹی دھمکی، واقعے یا ممکنہ خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
اسی طرح حکومت کی جانب سے بھی تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ چھ ماہ کی طویل مدت کے لیے فوج کی تعیناتی کی ضرورت کیوں پیش آئی اور محکمہ داخلہ پنجاب نے کس مخصوص سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاق سے فوج طلب کی۔
وزارت داخلہ کے حکم میں تعیناتی کا بنیادی مقصد کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی روک تھام، غیر متوقع حالات میں مؤثر ردعمل اور ضلعی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق سکیورٹی معاونت فراہم کرنا قرار دیا گیا ہے۔