سعودی عرب میں کھجور کے فضلے سے ماحول دوست لکڑی کی تیاری

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب میں کھجور کے درختوں سے پیدا ہونے والے زرعی فضلے کو ضائع کرنے کے بجائے اسے قیمتی صنعتی خام مال میں تبدیل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ کھجور کی شاخوں، گٹھلیوں اور دیگر باقیات سے انجینیئرڈ لکڑی، فرنیچر، بائیو پلاسٹک اور دیگر ماحول دوست مصنوعات تیار کرنے پر کام جاری ہے۔ عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ کھجور کے درخت موجود ہیں جبکہ ملک میں سالانہ 19 لاکھ ٹن سے زائد کھجوریں پیدا ہوتی ہیں۔ اس وسیع پیداوار کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زرعی فضلے کو اب ماحولیاتی بوجھ کے بجائے صنعتی اور اقتصادی وسائل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی صنعتی ترقی اور سرکلر اکانومی سعودی کمپنی جرید المستقبل کے چیف ایگزیکٹو فیصل الحویقان کے مطابق کھجور کا درخت صرف پھل ہی نہیں بلکہ متعدد قابلِ استعمال ضمنی مصنوعات بھی فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کھجور کی خشک شاخوں کو جمع کرکے انہیں صاف کرنے، کاٹنے اور مخصوص درجہ حرارت پر دبانے کے عمل سے مضبوط بورڈز میں تبدیل کر رہی ہے، جنہیں ٹرے، یادگاری اشیا، میزوں، کرسیوں اور دیگر مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے کھجور کی شاخوں کو پیس کر پاؤڈر بنانے اور اس خام مال سے بائیو پلاسٹک تیار کرنے پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک بار استعمال ہونے والی اشیا، کھانے کے برتن، پانی کی بوتلیں اور روزمرہ استعمال کی دیگر مصنوعات تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ آرامکو اور پولیمرون کا کلیدی کردار کھجور کے فضلے کے صنعتی استعمال کے امکانات صرف بائیو پلاسٹک تک محدود نہیں۔ سعودی عرب کی توانائی کمپنی آرامکو کے محققین نے کھجور کی گٹھلیوں سے ایسا مواد تیار کیا ہے جو تیل اور گیس کی ڈرلنگ کے دوران ڈرلنگ فلوئڈ کے ضیاع کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب سعودی کمپنی پولیمرون زرعی فضلے، خصوصاً کھجور کی باقیات، کو بائیو ڈی گریڈیبل پلاسٹک کی تیاری کے لیے استعمال کرنے پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو روڈریگو جمنیز سینڈووال کے مطابق سعودی عرب میں ہر سال تقریباً 30 لاکھ ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پولیمرون زرعی فضلے کو مختلف مکینیکل اور کیمیائی مراحل سے گزار کر بائیو ڈی گریڈیبل پلاسٹک کے دانوں میں تبدیل کرتی ہے۔ ان دانوں سے کٹلری، کچرے کے تھیلے، پودوں کے گملے اور تھری ڈی پرنٹنگ کے لیے فلامنٹ سمیت متعدد مصنوعات تیار کی جاسکتی ہیں۔ معاشی و ماحولیاتی اثرات کمپنی کے مطابق بعض آکسی ڈی گریڈیبل پلاسٹک مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے چھوٹے ذرات یا مائیکرو پلاسٹکس میں تبدیل ہوسکتے ہیں، جبکہ اس کی تیار کردہ بائیو ڈی گریڈیبل مصنوعات کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ وقت کے ساتھ تحلیل ہوجاتی ہیں اور مائیکرو پلاسٹکس کے ذرات نہیں چھوڑتیں۔ اس ٹیکنالوجی کے معاشی اور ماحولیاتی فوائد بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ پولیمرون کے اندازے کے مطابق اگر جدہ کی مارکیٹ کے ایک محدود حصے میں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے تو تقریباً 21 ہزار ٹن روایتی پلاسٹک کی جگہ متبادل ماحول دوست مواد استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ تقریباً 44 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ ممکن ہوگا۔ ماہرین کے مطابق کھجور کے فضلے کو صنعتی مصنوعات میں تبدیل کرنے سے کسانوں کے لیے آمدنی کے اضافی ذرائع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی فضلے کی جمع آوری، نقل و حمل، پراسیسنگ اور مصنوعات کی تیاری کے شعبوں میں نئی کاروباری سرگرمیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں، جو پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں سرکلر اکانومی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔ تاہم اس شعبے کو بڑے پیمانے پر تجارتی سطح پر فروغ دینے کے لیے لاگت ایک اہم چیلنج ہے۔ بائیو پلاسٹک اب بھی روایتی پلاسٹک کے مقابلے میں مہنگا ہے، اگرچہ مقامی سطح پر خام مال کی دستیابی اور درآمدی متبادل کے مقابلے میں کم نقل و حمل کے اخراجات اسے مستقبل میں زیادہ مسابقتی بنا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار تک پہنچانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری، جدید صنعتی مشینری اور مسلسل تحقیق و ترقی کی ضرورت ہوگی۔ بائیو پلاسٹک کو ایک ڈیپ ٹیک شعبہ سمجھا جاتا ہے، جہاں تحقیق کو تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں 1 لاکھ 23 ہزار سے زائد کھجور فارم اور 157 سے زیادہ کھجور پراسیسنگ فیکٹریاں موجود ہیں۔ اس وسیع شعبے سے پیدا ہونے والے فضلے کو انجینیئرڈ لکڑی، فرنیچر، بائیو پلاسٹک اور دیگر صنعتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف زرعی فضلے میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ نئی سبز صنعتوں، روزگار اور سرکلر اکانومی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔




