مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر ایک بار پھر وار، احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت، مسائل کے ذمہ دار قرار دے دیا

خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر ایک بار پھر وار، احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت، مسائل کے ذمہ دار قرار دے دیا

خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر ایک بار پھر وار، احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت، مسائل کے ذمہ دار قرار دے دیا

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کی بیوروکریسی کے کردار، اثر و رسوخ اور احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی حکمران اشرافیہ کے تقریباً ہر طبقے کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑی، تاہم بیوروکریسی طویل عرصے تک احتساب اور گرفت سے محفوظ رہی ہے۔

خواجہ آصف نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں حکمران اشرافیہ کے مختلف طبقات کے خلاف کرپشن، بدانتظامی اور دیگر الزامات پر کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، تاہم بیوروکریسی ایک ایسا طبقہ رہی جو بڑی حد تک احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی۔

وزیر دفاع نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو شاید ہی اس بات کا احساس ہو کہ ملک پر مختلف ادوار میں بیوروکریٹس بھی حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سابق گورنر جنرل غلام محمد، سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی اور سابق صدور سکندر مرزا اور غلام اسحاق خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات کا بیوروکریٹک پس منظر تھا، حالانکہ ان ادوار میں بظاہر اقتدار سیاست دانوں کے پاس تھا۔

تاہم خواجہ آصف نے بیوروکریسی کو تمام مسائل کا واحد ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کی نااہلی، کمزوریوں اور باہمی اختلافات نے بیوروکریسی کو ریاستی معاملات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیاست دان اپنی اصلاح کرلیں اور اپنے معاملات درست کرلیں تو بیوروکریسی میں بھی اصلاح اور احتساب کا عمل خود بخود بہتر ہوسکتا ہے۔

بیوروکریسی کے خلاف خواجہ آصف کے مسلسل بیانات

خواجہ آصف کی جانب سے بیوروکریسی پر تنقید کوئی نئی بات نہیں بلکہ حالیہ عرصے میں وہ متعدد مواقع پر اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔

15 اگست 2026 کو بھی خواجہ آصف نے بیوروکریسی کو پاکستان کا ’’اصل اور مستقل حکمران‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی 78 سالہ تاریخ میں سیاست دانوں سمیت حکمران اشرافیہ کے مختلف طبقات کا احتساب ہوتا رہا ہے، تاہم بیوروکریسی کے احتساب کی مثالیں نسبتاً کم دکھائی دیتی ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے ایک سینئر بیوروکریٹ سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے احتساب کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جبکہ بیوروکریسی کے احتساب کی مثالیں تلاش کرنا مشکل ہے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر بیوروکریسی ایک طاقتور اور ناقابلِ گرفت طبقہ بن چکی ہے تو اس صورتحال کی ذمہ داری صرف بیوروکریٹس پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق سیاست دانوں کی کمزوریوں اور باہمی اختلافات نے بیوروکریسی کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے نیشنلائزیشن کی پالیسی کے بعد سرکاری اداروں اور کاروباری سرگرمیوں میں بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی حوالہ دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ 1970 کی دہائی میں قومیانے کے بعد بیوروکریسی نے متعدد اداروں کا انتظام سنبھالا، جس کے نتیجے میں کئی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی، تاہم طاقتور بیوروکریٹک عناصر سے مؤثر طور پر جواب طلبی نہیں کی گئی۔

2025 میں بھی بیوروکریسی پر سخت تنقید

خواجہ آصف اس سے قبل بھی بیوروکریسی کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں۔ اگست 2025 میں انہوں نے ایک سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی بیوروکریسی کے ایک بڑے حصے نے بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں اور بعض بیوروکریٹس یورپی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بعض ریٹائرڈ بیوروکریٹس پر مبینہ کرپشن کے بعد بیرون ملک آسائش کی زندگی گزارنے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ بیوروکریسی کے حوالے سے ان کے مؤقف پر اس قدر ردعمل سامنے آئے گا۔

خواجہ آصف نے اس معاملے پر بیوروکریٹس کے اثاثوں، مراعات اور بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ بیرون ملک جائیدادیں رکھنے یا غیر ملکی شہریت کے حصول کی کوشش کرنے والے بیوروکریٹس کے نام بھی سامنے لائے جاسکتے ہیں۔

سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کا تعلق

خواجہ آصف کے حالیہ اور سابقہ بیانات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی کا اثر و رسوخ صرف بیوروکریٹس کی طاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی کمزوریوں اور باہمی اختلافات نے بھی اسے مضبوط کیا ہے۔

30 اگست کے اپنے تازہ بیان میں بھی وزیر دفاع نے بیوروکریسی پر تنقید کے ساتھ سیاست دانوں کو بھی اپنی اصلاح کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت اگر اپنی کارکردگی، نظم و ضبط اور باہمی اختلافات پر قابو پالے تو ریاستی معاملات میں بیوروکریسی کے غیر معمولی اثر و رسوخ کو بھی محدود کیا جاسکتا ہے۔

خواجہ آصف کا یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں سول بیوروکریسی کے کردار، ریاستی اداروں میں اس کے اثر و رسوخ، سیاسی حکومتوں کے ساتھ اس کے تعلق اور احتساب کے نظام میں اس کی جواب دہی پر مسلسل بحث جاری ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں